حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حجت الاسلام والمسلمین شیخ نعیم قاسم نے "یوم مقاومت اور آزادی" کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا: مقاومت؛ تمام شرافت مند مقاومتی اور وطن دوست افراد کی تحریک کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا: یہ آزادی امام موسیٰ صدر کی عظیم قربانیوں اور امام خمینی (رہ) کی رہبری کا ثمرہ ہے جنہوں نے اعلان کیا کہ "اسرائیل شرِ مطلق ہے"۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا: یہ آزادی شہید امام خامنہ ای (رہ) کی برکت ہے جنہوں نے اس راستے کو جاری رکھا اور اس کی حمایت کی۔ یہ مقاومت سید حسن نصراللہ، شہید راغب حرب، شہید سید عباس موسوی، حاج عماد مغنیہ اور دیگر مجاہدین کی رہبری اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔
انہوں نے کہا: فوج، عوام اور مقاومت کے درمیان ہم آہنگی نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مقاومت کو غیر مسلح کرنا لبنان کی دفاعی طاقت کو ختم کرنا اور تباہی کا پیش خیمہ ہے جو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔
حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا: امریکہ نے حزب اللہ کے بعض نمائندوں، تحریک امل کے بعض برادران اور فوج و عمومی سیکیورٹی کے بعض افسران کے خلاف جو پابندیاں عائد کی ہیں، ان کا مقصد مقاومت پر دباؤ ڈالنا ہے۔ حالانکہ یہ پابندیاں ہمیں مزید مستحکم کرتی ہیں۔
انہوں نے کہا: اگر امریکہ مزید وحشیانہ رویہ اختیار کرتا ہے تو لبنان میں اس کے لیے سوائے تباہی و بربادی کے کچھ باقی نہیں رہے گا۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا: اسرائیل ایک توسیع پسند دشمن ہے اور مقاومت کو غیر مسلح کرنا اس کے منصوبے کا حصہ ہے۔
انہوں نے کہا: جب تک حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر لیتی، مقاومت مسلح رہے گی۔
شیخ نعیم قاسم نے کہا: ایران سربلند ہو کر جنگ سے نکلے گا اور ایک استثنائی قوت بن کر ابھرے گا جس کا بین الاقوامی مقام ہو گا اور دنیا کے تمام آزاد لوگ اس کی طرف رجوع کریں گے۔
انہوں نے بحرین سے مطالبہ کیا کہ وہ مذہبی اور سیاسی عقائد کی وجہ سے گرفتار ان کے شیعہ علماء اور شہریوں کو رہا کرے۔









آپ کا تبصرہ