حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جواد علیہ السلام کی زندگی اور مجاہدانہ سیرت کو مقاومت، روشن خیالی اور فکری و ثقافتی جہاد کے ایک نمونہ کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
امام جواد علیہ السلام کا دورِ امامت بلاشبہ ائمہ اطہار علیہم السلام کی زندگی اور رہنمائی کا سب سے پیچیدہ اور مشکل دور تھا۔ اس دور کی پیچیدگیوں اور خاص طور پر اس دور کے طاغوت کے رویے اور عمل کی پیچیدگیوں کو سمجھ کر ہی یہ بات بہتر طور پر سمجھی جا سکتی ہے کہ آپ کو شیعیان کے لیے "برکت اعظم" کیوں کہا جاتا ہے۔
ہمارے شہید امام اور رہبر آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای (رہ) نے اپنی مختلف تقاریر میں امام جواد علیہ السلام کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس امام ہمام کو باطل کے خلاف مقاومت کی علامت اور استعمار کے سامنے الہی تحریک کے پیش رو کے طور پر بیان کیا ہے اور زور دیا ہے کہ استکبار کے خلاف ملت ایران کا راستہ وہی راستہ ہے جو اہل بیت علیہم السلام بشمول امام جواد علیہ السلام نے ہمارے لیے متعین کیا ہے۔
رہبر شہید (رہ) نے اسی سلسلے میں ایک جگہ فرمایا ہے: "امام جواد علیہ السلام باطل کے خلاف مقاومت کا مظہر تھے، وہ اللہ کی حکومت کے لیے کوشاں تھے، وہ خدا اور قرآن کے لیے لڑتے تھے، وہ ظالم طاقتوں سے نہیں ڈرتے تھے۔" اور دوسری جگہ آپ نے حضرت کی توصیف میں امام جواد علیہ السلام کو اس تحریک کا "امام، نمونہ اور پیش رو" قرار دیا ہے جسے آج ملت ایران مضبوطی سے جاری رکھے ہوئے ہے۔
انہوں نے اپنے دیگر خطابات میں جواد الائمہ علیہ السلام کی مختصر لیکن پرفروغ زندگی کو عباسیوں کے فریب کارانہ نظام کے خلاف مقاومت کی ایک کم یاب مثال قرار دیتے ہوئے کہا: "آپ علیہ السلام مقاومت کی علامت اور نشانی ہیں۔"
شہید رہبر انقلاب کے مطابق امام جواد علیہ السلام تمام دباؤ اور وسیع پابندیوں کے باوجود مامون عباسی کے سامنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے اور حق کے دفاع کے لیے تمام مشکلات برداشت کیں تاکہ امت کی ہدایت کا راستہ ہموار ہو سکے۔
ہمارے شہید امام اور رہبر نے ایک اور موقع پر امام جواد علیہ السلام کی مجاہدانہ صفات کے سب سے اہم پہلوؤں میں سے ایک کو علمی منطق اور مکالمے کا فروغ قرار دیا ہے۔ آپ نے دربار مامون عباسی میں امام کے تاریخی مناظروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امام جواد علیہ السلام سب سے پہلے وہ شخص تھے جنہوں نے عوامی سطح پر "آزاد بحث" کی روایت قائم کی اور اپنے دور کے علماء اور مدعیان کے سامنے دلیل اور برہان کے ساتھ اہل بیت علیہم السلام کے مکتب کی حقانیت کا دفاع کیا۔
درحقیقت شہید رہبر انقلاب کا امام جواد علیہ السلام کی علمی اور مجاہدانہ سیرت پر زور دینا آج کے اسلامی معاشرے کی ضرورت کی طرف اشارہ ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جو فوجی میدان جنگ کے ساتھ ساتھ بیانات کی جنگ، میڈیا جنگ اور استعماری رجحانات کے ساتھ فکری مقابلے میں بھی مصروف ہے۔ اس نقطہ نظر سے، مقاومت صرف فوجی میدان تک محدود نہیں ہے بلکہ ثقافتی استقامت اور حقیقت کی تبیین بھی اس کا حصہ ہے۔









آپ کا تبصرہ