حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے معاونِ تحقیق حجت الاسلام والمسلمین امین رضا عابدی نژاد نے ”ترقی یافتہ اور کار آمد حوزہ علمیہ“ کے موضوع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حوزۂ علمیہ کی ذمہ داری صرف مقامی یا علاقائی نہیں، بلکہ فطری طور پر عالمی اور تمدنی ہے۔
انہوں نے کہا کہ رہبرِ انقلاب کی شہادت کے بعد دنیا بھر میں جو بیداری پیدا ہوئی، وہ ایک “عالمی بعثت” کی مانند ہے۔ آج دنیا میں ظلم و استکبار کی طاقت کمزور ہو رہی ہے اور قومیں بیدار ہو رہی ہیں۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انقلابِ اسلامی کے بعد امام خمینیؒ نے حوزہ کی ذمہ داری کو انبیاءؑ کے عالمی مشن سے جوڑ دیا۔ حوزہ کا مقصد صرف درس و تدریس نہیں، بلکہ “اقامۂ دین” اور “اظہارِ دین” ہے۔ اس لیے حوزۂ علمیہ کی رسالت بین الاقوامی اور تمدن ساز ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین امین رضا عابدی نژاد نے حوزہ کی چار بڑی عالمی ذمہ داریاں بیان کیں: دینی و فکری معارف کی پیداوار، عالمی معیار کی تربیت، مؤثر عالمی تبلیغ اور اسلامی نظام و تمدن کا عملی قیام
انہوں نے امام خمینیؒ کے فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ فقہ انسان کی گہوارے سے قبر تک رہنمائی کا نظام ہے۔
جامعہ المصطفیٰ العالمیہ کے معاونِ تحقیق نے کہا کہ تبلیغ صرف معلومات پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ دلوں پر اثر ڈالنے کا عمل ہے۔ اسلامی جمہوریہ اگر عدالت، اسلامی معیشت اور دینی نظام کا کامیاب نمونہ پیش کرے تو یہی اسلام کی سب سے بڑی تبلیغ ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امتِ مسلمہ کو علمی خودمختاری حاصل کرنی ہوگی اور مغربی علمی معیاروں پر انحصار ختم کرنا ہوگا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حوزہ ہائے علمیہ کو اپنی عالمی ذمہ داری ادا کرنے کے لیے: ایمانی ارادہ، تمدنی خود اعتمادی اور عالمی سطح کی فکری استقلال کی ضرورت ہے۔









آپ کا تبصرہ