حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزه علمیہ قم کے نائب مدیر حجت الاسلام والمسلمین حمید ملکی نے رہبر شہید (ره) انقلاب کے پیغام "حوزہ پیشرو و سرآمد"(پیشرفتہ و مفید حوزہ) پر مبنی تحقیقی امور کے سلسلہ میں منعقدہ ایک تقریب میں کہا: رہبر شہید (ره) کے فرمان کے مطابق دنیا کے علمی مراکز، عالمی محققین، بین الاقوامی جامعات اور منصفانہ سوچ رکھنے والے دانشور، سب حوزہ علمیہ کے دین کے بارے میں بیان سننے کے منتظر اور مشتاق ہیں۔
انہوں نے رہبر شہید (ره) کے تاریخی پیغام کے بعد حوزہ علمیہ میں تبدیلی کے عمل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: جس دن رہبر شہید (ره) نے یہ پیغام جاری کیا، اگلے ہی دن آیت اللہ اعرافی نے ایک اجلاس بلایا اور کہا کہ اب حوزوہ امور کا محور حضرت آقا کا فرمان ہے۔ اس لمحے سے یعنی ایک دن بعد ہی وہ بہت قیمتی بیانیہ پڑھے جانے کے بعد اجلاسات شروع ہو گئے اور آج ایک سال بعد آپ ابتدائی کام دیکھ رہے ہیں جو بہت بڑے اور اساسی ہیں۔
حوزه علمیہ قم کے نائب مدیر نے حوزوی علوم کی نوعیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: حوزوی علوم کا مواد فنا ہونے والا نہیں ہے۔ حوزوی علوم قرآن کریم اور اہل بیت علیہم السلام کی روایات سے ماخوذ ہیں۔ قرآن ایک جاوید معجزہ ہے، جب تک انسان موجود ہے، اسے قرآن کی ضرورت بھی باقی رہے گی۔
انہوں نے کہا: رہبر شہید (ره) نے فرمایا تھا کہ دنیا تبدیل ہو رہی ہے، اگر حوزہ خود کو اس تبدیلی کے مطابق نہ کرے، ساتھ نہ دے اور جوابدہ نہ ہو تو الگ تھلگ ہو جائے گا۔ یہ ایک عقلی اور فطری اصول ہے۔
حجت الاسلام والمسلمین حمید ملکی نے رہبر شہید (ره) کے ایک کلیدی فرمان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: آپ فرماتے تھے کہ جو شخص آج عالم دین کی حیثیت سے میڈیا، ٹیلی ویژن اور ریڈیو میں بحث کرتا ہے، اسے ایسا تصور کرنا چاہیے کہ پانچ سو سال تک یہ عبارتیں، یہ جملے اور یہ پیشکشیں تازہ، نئی اور جوابدہ ہونی چاہئیں۔
انہوں نے خطے کی حالیہ تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: موجودہ دنیا خاص طور پر جنگ رمضان کے بعد، ابھی حقیقی طور پر شیعہ فکر، اہل بیت علیہم السلام کے مکتب اور حوزوی علوم کو پہچان رہی ہے۔









آپ کا تبصرہ