پیر 18 مئی 2026 - 16:11
حوزہ علمیہ کے لیے تمدن سازی سب سے بڑی ذمہ داری ہے: حجۃ الاسلام سیدمفید حسینی کوہساری

حوزہ/ حجۃ الاسلام و المسلمین سیدمفید حسینی کوہساری نے کہا ہے کہ رہبرِ انقلاب اسلامی کے تاریخی منشور "حوزہ پیشرو و سرآمد" (قائدانہ کردار ادا کرنے والا اور سب سے ممتاز حوزہ) نے حوزہ علمیہ کے لیے ایک نئی عالمی ذمہ داری متعین کی ہے اور اب حوزات ایک نئے "بین الاقوامی بعثت" کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

حجۃ الاسلام و المسلمین سیدمفید حسینی کوہساری نے کہا ہے کہ رہبرِ انقلاب اسلامی کے تاریخی منشور "حوزہ پیشرو و سرآمد" (قائدانہ کردار ادا کرنے والا اور سب سے ممتاز حوزہ) نے حوزہ علمیہ کے لیے ایک نئی عالمی ذمہ داری متعین کی ہے اور اب حوزات ایک نئے "بین الاقوامی بعثت" کے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔

قم میں منعقدہ تخصصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ منشور صرف ایران کے داخلی امور تک محدود نہیں بلکہ امتِ مسلمہ اور عالمی اسلامی تمدن کے مستقبل سے مربوط ایک جامع دستاویز ہے۔ ان کے مطابق اس منشور میں 150 سے زیادہ ایسے الفاظ اور تعبیرات موجود ہیں جو عالمی مسائل، امتِ مسلمہ، استعمار، استکبار، فلسطین، نجف اور دیگر بین الاقوامی موضوعات کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس منشور کو تین زاویوں سے سمجھا جا سکتا ہے؛ متن، اس کے پس منظر اور اس کی اسٹریٹجک تعبیر۔ ان کے مطابق ہر سطح پر یہ منشور عالمی اور تمدنی پیغام رکھتا ہے اور حوزہ کو صرف ایک تعلیمی ادارہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا کرنے والی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

حجۃالاسلام حسینی کوہساری نے کہا کہ رہبرِ انقلاب اسلامی نے حوزہ کو "عالمی استکبار کے مقابلے کی پہلی صف" قرار دیا ہے، جو انبیاء علیہم السلام کی تاریخی ذمہ داری کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق حوزہ کو ظلم، استعمار اور عالمی تسلط کے خلاف فکری و عملی جدوجہد میں قائدانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ "تمدن سازی" حوزہ سے سب سے بڑی توقع ہے۔ رہبرِ انقلاب اسلامی کے مطابق اسلامی تمدن کا قیام انقلاب اسلامی کا سب سے بڑا دنیوی ہدف ہے، جس میں علم، ٹیکنالوجی، حکومت، معیشت اور انسانی صلاحیتوں کو عدلِ اجتماعی، معنویت اور انسانی رفاہ کے لیے استعمال کیا جائے۔

حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امورکے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ حوزہ علمیہ کو عالمی علمی مرجعیت حاصل کرنا ہوگی اور جدید عالمی مسائل پر نظریہ سازی کی صلاحیت پیدا کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آج صرف روایتی تبلیغ کافی نہیں بلکہ عالمی سطح کے فکری و ثقافتی مجاہدین تیار کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ رہبرِ انقلاب اسلامی کے نزدیک دو اہم پہلو پائے جاتے ہیں؛ ایک استکباری نظام کے مقابلے کی جدوجہد اور دوسرا جدید اسلامی تمدن کی تشکیل۔ اسی بنیاد پر حوزات کو نئے عالمی نظام میں مؤثر کردار کے لیے تیار ہونا چاہیے۔

حسینی کوہساری نے کہا کہ موجودہ عالمی تبدیلیاں، صہیونی حکومت کے زوال اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ میں کمی، حوزات کی ذمہ داری کو مزید بڑھا رہی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شہداء کے خون اور رہبرِ انقلاب اسلامی آیت‌الله سیدمجتبی حسینی خامنه‌ای کی تمدنی فکر کے سائے میں حوزہ علمیہ عالمی سطح پر ایک نئے دور میں داخل ہوگا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha