حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے حوزہ علمیہ کے میڈیا اور سائبر سپیس سنٹر میں مرکز "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کے زیر اہتمام "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کے منشور کے بین الاقوامی پہلوؤں پر منعقدہ دوسری نشست میں گفتگو کے دوران کہا: اس پیغام کو حوزہ کا "عالمی منشور" سمجھنا چاہیے ایک ایسی دستاویز جس کے شروع سے آخر تک امت ساز اور تہذیبی نقطہ نظر موجزن ہے۔
انہوں نے رہبر شہید (ره) کے تاریخی پیغام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ منشور حوزات علمیہ کے لیے ایک تاریخی دستاویز ہے اور ضروری ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ اسی لیے تعلیمی، تحقیقی، تبلیغی اور اسٹریٹجک نقطہ نظر سے متعدد نشستیں منعقد ہو رہی ہیں اور حوزہ کا بین الاقوامی شعبہ نے بھی اپنا فرض سمجھتا ہے کہ وہ بین الاقوامی نقطہ نظر سے اس پیغام کا جائزہ لے۔
حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے سرپرست نے مزید کہا: رہبر شہید (ره) نے اس پیغام میں حوزہ علمیہ کو ایک تہذیب ساز، امت ساز، نظام ساز اور نظام استعمار کے خلاف صف اول کی حیثیت سے متعارف کرایا ہے۔
انہوں نے کہا: رہبر شہید (ره) نے یہ بھی واضح کیا کہ انقلاب اسلامی کا سب سے بڑا دنیاوی ہدف جدید اسلامی تہذیب کی تعمیر ہے۔ اس لیے یہ بالکل واضح ہے کہ ان کا حوزہ کے بارے میں نقطہ نظر ایک عالمی اور تہذیبی نقطہ نظر ہے اور یہ نقطہ نظر اس پورے منشور میں روح کی طرح جاری ہے۔

حجت الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے کہا: اسی لیے میں نوجوان طلباء، فضلاء اور حوزہ کے ممتازین سے کہتا ہوں کہ وہ اس منشور کو ایک بار پھر بین الاقوامی اور تہذیبی نقطہ نظر سے پڑھیں کیونکہ اس دستاویز کی تہذیبی اور عالمی تشریح ایک سنگین ضرورت ہے اور اسے حوزات علمیہ میں انتہائی اہمیت دینی چاہیے۔
انہوں نے کہا: یہ نقطہ نظر طالب علم کو ایک عظیم اور تاریخی شناخت عطا کرتا ہے، ایک ایسی شناخت جس کا آغاز انبیاء کی بعثت کے تسلسل میں ہے اور انجام عالمی عدالت کے قیام کی راہ میں ہے۔ درحقیقت حوزہ علمیہ نے پوری تاریخ میں ہمیشہ کردار ادا کیا ہے اور آج بھی اسے اپنا وہی تہذیبی اور تاریخی کردار ادا کرنا ہے۔
حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے سرپرست نے کہا: حوزہ علمیہ کو آج پہلے سے کہیں زیادہ عالمی نقطہ نظر، تہذیبی رویہ، علمی مرجعیت، فعال میڈیا موجودگی اور عالم اسلام کی بڑی تبدیلیوں میں کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اور "پیشرفتہ اور ممتاز حوزہ" کا منشور اس تاریخی تحریک کا راہنما نقشہ ہے۔









آپ کا تبصرہ