جمعرات 21 مئی 2026 - 11:32
تمام مذاہب بنیادی طور پر اپنے منشور اور پیغام ہی سے پہچانے جاتے ہیں، مقررین

حوزہ / "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کے منشور کے بین الاقوامی پہلوؤں پر منعقدہ دوسری نشست میں مقررین نے رہبر شہید (ره) کے اسٹریٹجک اور تاریخی پیغام کو "اسلامی تہذیب کا راہنما نقشہ"، "حوزہ کا عالمی منشور"، "امت ساز دستاویز" اور "حوزات علمیہ کے تاریخی مقام کی ازسرِنو تعیین کے لیے ایک منصوبہ" قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے میڈیا اور سائبر سپیس سنٹر میں مرکز "حوزہ پیشرو و سرآمد" کے زیر اہتمام منعقدہ اس نشست میں حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے سرپرست حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری، حوزہ علمیہ کے بین الاقوامی امور کے نائب سرپرست حجت الاسلام والمسلمین محمدرضا برتہ اور حوزہ علمیہ قم کے استاد حجت الاسلام والمسلمین محمدرضا فلاح شیروانی نے "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کے بارے میں رہبر شہید (ره) کے اسٹریٹجک پیغام کے تہذیبی اور بین الاقوامی پہلوؤں کا جائزہ لیا۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کا منشور محض ایک نصیحتی متن یا حوزے کی انتظامیہ کے لیے ایک داخلی دستاویز نہیں بلکہ انہوں نے اسے "اسلامی تہذیب کا راہنما نقشہ"، "حوزہ کا عالمی منشور"، "امت ساز دستاویز" اور "حوزات علمیہ کے تاریخی مقام کی ازسرنو تعیین کے لیے ایک منصوبہ" قرار دیا۔

ان کے مطابق، یہ دستاویز حوزہ علمیہ کو ایک تعلیمی یا تحقیقی ادارے کی سطح سے بلند کر کے ایک تہذیبی کردار، عالمی علمی مرجع اور نظام استعمار کے خلاف صف اول کے کردار کے طور پر متعین کرتی ہے۔

تمام مذاہب بنیادی طور پر اپنے منشور اور پیغام ہی سے پہچانے جاتے ہیں، مقررین

حجت الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے رہبر شہید (ره) کے تاریخی پیغام کی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ منشور حوزات علمیہ کے لیے ایک تاریخی دستاویز ہے اور ضروری ہے کہ اس کے مختلف پہلوؤں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ اسی لیے تعلیمی، تحقیقی، تبلیغی اور اسٹریٹجک نقطہ نظر سے متعدد نشستیں منعقد ہو رہی ہیں اور حوزہ کا بین الاقوامی شعبہ نے بھی اپنا فرض سمجھتا ہے کہ وہ بین الاقوامی نقطہ نظر سے اس پیغام کا جائزہ لے۔

انہوں نے کہا: "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کے منشور پر حاکم روح بنیادی طور پر عالمی اور تہذیبی ہے۔ ان کے بقول، اس پیغام کو حوزہ کا "عالمی منشور" سمجھنا چاہیے ایک ایسی دستاویز جس کے شروع سے آخر تک امت ساز اور تہذیبی نقطہ نظر موجزن ہے۔

تمام مذاہب بنیادی طور پر اپنے منشور اور پیغام ہی سے پہچانے جاتے ہیں، مقررین

حجت الاسلام والمسلمین محمدرضا برتہ نے "پیشرفتہ و برتر حوزہ" کے منشور کو "زندگی بخشنے والا پیغام" قرار دیا اور کہا: مذاہب بنیادی طور پر اپنے منشور اور پیغام ہی سے پہچانے جاتے ہیں اور رہبر شہید (ره) کا یہ پیغام بھی حوزہ کو ایک نئی حقیقت سے روشناس کرتا ہے۔ ایک ایسی حقیقت جسے اگر صحیح طور پر سمجھ لیا جائے تو حوزے میں ذمہ داری کا احساس اور ایک نئی تحریک پیدا کرے گا۔

تمام مذاہب بنیادی طور پر اپنے منشور اور پیغام ہی سے پہچانے جاتے ہیں، مقررین

نشست کے آخری حصے میں حوزہ علمیہ قم کے استاد حجت الاسلام والمسلمین محمد رضا فلاح شیروانی نے اس منشور کی تاریخی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: اگر حوزہ اور معاشرہ اس پیغام کو سنجیدگی سے لیں تو یہ پیغام انسانوں اور اداروں کو برجستہ کرنے اور ان کے سامنے نئے افق کھولنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا: جب بھی حوزہ پھلا پھولا، اسلامی تہذیب بھی پھلی پھولی اور جب بھی حوزہ کمزور ہوا، اسلامی معاشرہ بھی جمود اور پسماندگی کا شکار ہوا۔

حجت الاسلام والمسلمین فلاح شیروانی نے خطے کے ممالک خاص طور پر عراق اور یمن کے ساتھ حوزہ کے فعال تعاون کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: عالم اسلام میں بے پناہ صلاحیتیں موجود ہیں جو ابھی تک صحیح طور پر فعال نہیں ہوئی ہیں۔ حوزہ کو چاہیے کہ وہ تہذیبی رہبری کی سطح پر عالم اسلام کے ساتھ اپنے علمی اور فکری تعاملات کو بڑھائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha