حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مقام معظم رہبری کے پیغام "پیشرفتہ اور ممتاز حوزہ" کے ایک سال پورا ہونے کی مناسبت سے حوزہ علمیہ کے مدیر نے پیغام جاری کیا ہے جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
مِنَ الْمُؤْمِنِینَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَی نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِیلًا
اس پیغام میں آیا ہے کہ: ایران کے استکبار کے ساتھ تہذیبی میدان میں خوف، جمود اور غفلت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ حوزہ کو چاہیے کہ اس پیغام کی روشنی میں اور رہبری و مراجع کی پیروی کرتے ہوئے ایک بڑا قدم آگے بڑھائے۔
اس پیغام کے ایک سال پورا ہونے کے موقع پر اور ملک، انقلاب اسلامی اور حوزہ علمیہ کی انتہائی حساس تاریخ میں، معزز اساتذہ، حوزہ و یونیورسٹی کے دانشوروں، طلباء، فضلاء اور عزیز نوجوان محققین کی خدمت میں عاجزانہ چند نکات پیش کرتا ہوں:
۱۔ “پیشرفتہ اور ممتاز حوزہ” کا بلند اور متعالی پیغام ہر دوسرے پہلو سے بڑھ کر، "عصر حاضر میں حوزہ علمیہ" کی ایک نئی اور تابناک تعریف ہے لیکن اس نئے دور میں ہم تیز رفتار تبدیلیوں، حیرت انگیز تغیرات، معاشرے اور دنیا کے معرفت اور معیشت میں تبدیلیوں کا سامنا کر رہے ہیں اور لامتناہی سوالات اور ضروریات ہمارے سامنے ہیں۔ دوسری طرف نئے علوم اور ٹیکنالوجیز کا غلبہ اپنی تمام قوتوں اور بے شمار کمزوریوں کے ساتھ ہمارے گرد گھرا ہوا ہے۔ حوزہ کو نئے معیار اور "پیشرفتہ اور ممتاز حوزہ" اور اس کی انقلابی تعریف میں اس میدان میں قدم رکھنا چاہیے اور اپنی تاریخی شناخت اور اصالت کو اہمیت دیتے ہوئے اور اپنے مضبوط علمی و اجتہادی مناہج اور روحی و اخلاقی راستوں اور اپنی اصیل روایات پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
۲۔ پیشرفتہ حوزہ کی بنیاد عقلانیت، فقاہت اور اسلامی معارف پر ہے لیکن اسے موضوع شناسی، ضرورت شناسی، علمی گہرائی، دینی نظام سازی اور مواقع کے ضیاع سے بچنے کی ضرورت ہے۔ حوزوی طریقۂ کار میں تحول اور مثبت تبدیلی ایک ناقابل تردید ضرورت ہے۔
۳۔ عوام دوستی، جوان محوری، میدان داری، اخلاق مداری اور یونیورسٹی اور بین الاقوامی دانشوروں کے ساتھ تعامل اس پیغام کے اہم محور ہیں جنہیں دیگر فرائض کے زیر سایہ نہیں ہونے دینا چاہیے۔
۴۔ اور اب ہم ہیں اور گلیاں اور میدان اور ملت ایران کی عظیم بیداری اور محور مقاومت۔ نوجوان طلباء، سرخرو مبلغین، آگاہ روحانیت، حوزہ کے اعلیٰ اداروں اور حوزہ کے وسیع مواکب اور ہائبرڈ جنگ اور بلاغ مبین کے قرارگاہوں نے حوزات علمیہ اور حوزوی اداروں نے قابل ستائش کردار ادا کیا ہے۔ یہ کردار دشمن پر فتح اور مکار و غدار دشمن پر غلبے تک جاری رہنا چاہیے اور جنگ کے بعد بھی جاری رہنا چاہیے۔
۵۔ تبلیغ، تبیین اور روشن خیالی شہید امام کا ہمیشہ سے مشورہ اور حوزہ پیشرو کا پیغام ہے۔ اچھی اور مثبت تبدیلیوں کے باوجود ہم ابھی راستے کے آغاز میں ہیں اور اس سلسلہ میں ابھی مزید کاوشوں اور اجتماعی تعاون کی ضرورت ہے۔
میں خداوند متعال سے تمام حوزویان اور معزز علماء و روحانیت کی صحت و سعادت اور مسلمانوں، مستضعفان، مسلح افواج اور محور مقاومت کی دشمنوں اور دنیا کے مستکبرین پر حتمی فتح و نصرت کا طلبگار ہوں۔
علی رضا اعرافی
مدیر حوزہ علمیہ









آپ کا تبصرہ