حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی تیسری مسلط کردہ جنگ کے بارہویں ہفتۂ کے آغاز میں تجزیاتی اور حکمت عملی پر مبنی بیان جاری کیا ہے۔ جس کا خلاصہ درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمن الرحیم
إِنَّ الَّذِینَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَیْهِمُ الْمَلَائِکَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِی کُنْتُمْ تُوعَدُونَ(فصلت/۳۰)
ہم جنگ تحمیلی سوم کے بارہویں ہفتۂ کا آغاز اس حال میں کر رہے ہیں کہ صہیونی، مستکبر اور بچوں کے قاتل امریکی دشمن، عسکری میدان اور سفارت کاری میں ناکامی اور بحری ناکہ بندی کے ذریعے آبنائے ہرمز کو کھولنے میں ناکامی کے بعد، "آپریشن آزادی" کا منصوبہ شروع کر چکا ہے لیکن اللہ کی قوت و طاقت سے شروع ہی سے ہماری عسکری قوتوں کی سخت اور کاری ضربوں نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور اب آبنائے ہرمز کی مدیریت اس آپریشن سے پہلے کی طرح ایران کے بہادر، شجاع اور جان نثار سپاہیوں اور پاسداروں کی مضبوط ہاتھوں میں ہے۔
آبنائے ہرمز کو بند کرنا درحقیقت مغرب اور امریکہ کی اقتصادی شاہ رگ کو بند کرنا ہے۔ امریکہ کی اس آبنائے کو کھولنے کی کوششیں اب تک بے نتیجہ رہی ہیں۔ ان حالات میں مجرم ٹرمپ کے پاس تین راستوں کے سوا کوئی چارہ نہیں:
- یا تو وہ ایران کی تمام شرائط کو قبول کرے اور اس جنگ میں اپنی شکست کا اعلان کرے، جس کا مطلب ہے ٹرمپ کی تباہی اور دنیا میں امریکہ کی سپر پاور حیثیت کا خاتمہ؛
- یا پھر سفارتی میدان اور مذاکرات میں مختلف تدابیر کے ذریعے امتیازات حاصل کرے؛
- یا پھر فوجی کارروائی اور ایران کے کچھ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر اور داخلی و خارجی مخالف گروپوں کو فعال کر کے کچھ ضربیں لگائے اور جنگ کے خاتمے کا اعلان کرے اور ایک پیچیدہ اور وسیع میڈیا آپریشن کے ذریعے لوگوں کے ذہنوں میں اپنی فتح کی داستان ثبت کر کے خود کو اس دلدل سے نکال لے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عوام، ذمہ داران، ایران کے عسکری اہلکار اور مقاومتی محور، ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای (دامت برکاتہ) کی رہنمائیوں کے تحت اتحاد و یکجہتی کے ساتھ اپنے جہاد اور مقاومت کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور مستقبل کے تمام احتمالات کے لیے تیار ہیں اور اللہ پر توکل اور اس کی نصرت کے ساتھ دشمن کی چالیں ناکام بنا دیں گے۔
صہیونی امریکی دشمن، جو یہ سمجھتا تھا کہ وہ چند دنوں میں اپنے شرمناک اہداف حاصل کر لے گا، اس جنگ کے آغاز کے دس ہفتے گزرنے کے بعد نہ صرف یہ کہ ان اہداف تک نہیں پہنچا بلکہ ایران کی "فعال دفاعی طاقت" کی حکمت عملی کی گہرائی میں ایک بڑی دلدل میں پھنس گیا ہے اور اب حیرت سے ایران کے تاریخی جہاد، استقامت اور باافتخار فتح کو دیکھ رہا ہے۔
ہم اس عظیم نعمت اتحاد، یکجہتی، جہاد اور ایران کی قوم، ذمہ داران اور اس سرزمین کے غیور مسلح اہلکاروں کی بے مثال اور قابل فخر استقامت پر اللہ تعالیٰ کے شکرگزار ہیں۔
اس نورانی راستے کو جاری رکھنے اور اس عظیم نعمت کا عملی شکر ادا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ معزز علما، حوزوی، تبلیغی، ثقافتی ادارے اور حوزوی، یونیورسٹی اور ثقافتی شعبوں سے تعلق رکھنے والے ممتازین اور دانشور، جو ماضی کی جنگوں اور اس پوری جنگ کے دوران ہمیشہ استکبار کے محاذ کا مقابلہ کرنے میں صف اول میں رہے ہیں، اب بھی تمام پچھلے تجزیوں اور سفارشات کے علاوہ درج ذیل نکات اور حکمت عملیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے میدانی کردار اور جہاد تبیین کو مزید بہتر بنائیں:
۱. جہاد تبیین کے ذریعے عوام میں امید پیدا کرنا اور اتحاد، جہاد اور مقاومت کے عزم کو مضبوط کرنا:
۲. عزت مند اور دانشمندانہ سفارت کاری کی تبیین اور اس کا مطالبہ کرنا اور اسلامی اور انقلابی سفارت کاری کو فروغ دینا
۳. ملکی معاشی صورتحال اور عوام کی معیشت کو بہتر بنانے میں مدد کرنا
اس صورت حال میں علما کی چھ اہم ذمہ داریاں ہیں:
- جہاد اقتصادی کی ثقافت کی تبیین اور فروغ
- موجودہ جہاد کا اصل مورچہ جہاد اقتصادی کا مسئلہ ہے جو زیادہ سے زیادہ پیداوار کے لیے اعلیٰ کارکردگی کے ساتھ دوگنی محنت اور کوشش سے حاصل ہوتا ہے۔
- صبر و استقامت کی تلقین اور امید پیدا کرنا
- فضول خرچی سے بچنے اور مصرف میں قناعت اختیار کرنے کی تلقین:
- معاشی مفسدوں، ذخیرہ اندوزوں اور گران فروشوں کی نشاندہی کے لیے عوامی نگرانی کی تلقین:
- مقاومتی معیشت پر عمل درآمد کا عوامی مطالبہ پیدا کرنا
- مواسات اور ہمدردی کو فروغ دینا
۴. ثقافتی مسائل پر توجہ اور نرم ثقافتی جنگ میں جدت، دانائی اور تدبیر
۵. عوام اور ذمہ داران کے جامع جہاد پر تاکید
۶. مہدویت اور انتظار کی ثقافت کو فروغ دینا اور ظہور حضرت صاحب العصر (عج) کے لیے تیاری
تمام جہادی طلبہ اور علماء کرام سے توقع ہے کہ آج جہاد و مقاومت کے محاذ میں میدان داری کرتے ہوئے مہدویت اور انتظار کی ثقافت کو فروغ دیں اور اس حقیقت کو واضح کریں کہ آج کی ہماری جنگ کفر، نفاق، طاغوت اور ظلم کے خلاف جنگ ہے اور جہاد و مقاومت اور اس جنگ میں فتح کے ذریعے ظہور کے لیے زمینہ فراہم ہو جائے گا اور اس مقدس جہاد میں سستی و کوتاہی اور حق کے محاذ کی شکست کی صورت میں ہم پیچھے دھکیل دیے جائیں گے اور مہدویت اور ظہور مہدوی کے نظریات کے حصول سے دور ہو جائیں گے۔
اس امید کے ساتھ کہ ایرانی قوم اور امت مسلمہ ظہور حضرت صاحب العصر (عج) کی زمینہ سازی کا اعزاز اپنے نام کرے اور اس حضرت کی معیت میں جہاد کرنے کی توفیق حاصل کرے۔
وما النصر الا من عندالله العزیز الحکیم









آپ کا تبصرہ