حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع جهانی اہل البیت (ع) نے ایک بیانیہ جاری کرتے ہوئے آل خلیفہ حکومت کی جانب سے درجنوں شہریوں کی شہریت منسوخ کرنے اور بعض بحرینی علماء کی گرفتاری کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس بیانیہ کا متن حسبِ ذیل ہے:
مجمع جهانی اہل البیت (ع) شدید ترین الفاظ میں بحرین کی حکومت کے اس غیر قانونی، خودسرانہ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر مبنی اقدام کو جس کے تحت 69 شہریوں کی شہریت چھینی گئی اور کئی ممتاز علماء کو گرفتار کیا گیا اور تین اراکین پارلیمان کی رکنیت منسوخ کی گئی، مذمت کرتا ہے۔
معتبر ذرائع کے مطابق، ان افراد میں دینی رہنما، مداح، سماجی کارکن، خواتین، مرد اور حتیٰ کہ بچے اور نوزائیدہ بچے بھی شامل ہیں جنہیں بغیر کسی عدالتی کارروائی، قانونی تحقیقات اور عدلیہ کی صلاحیت کے محض بحرین کے بادشاہ کے حکم کے تحت ان کے فطری حق شہریت سے محروم کر دیا گیا ہے۔ یہ اقدام اجتماعی سزاؤں اور قانون سے ماوراء سزاؤں کی ایک واضح مثال ہے جو کسی بھی مہذب قانونی نظام میں قابل قبول نہیں ہے۔
بین الاقوامی قانون کے نقطہ نظر سے شہریت کا حق ہر فرد کے بنیادی ترین حقوق میں سے ایک ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ کا آرٹیکل 15، جو روایتی بین الاقوامی قانون کی عکاسی کرتا ہے، واضح طور پر کہتا ہے کہ: "کسی کو بھی صرف من مانی کے طور پر اس کی شہریت سے محروم نہیں کیا جائے گا۔"
بحرین کی حکومت کا بغیر کسی منصفانہ ٹرائل کے اور ملزمان اور ان کے خاندان کے اراکین خاص طور پر بچوں اور نوزائیدہ بچوں کے درمیان کوئی تفریق کیے بغیر شہریت چھیننے کا اقدام بین الاقوامی میثاق حقوق مدنی و سیاسی کے آرٹیکل 24 پیراگراف 3 اور کنونشن برائے حقوق اطفال کے آرٹیکل 7 و 8 کے تحت اس ملک کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس فیصلے میں نوزائیدہ بچوں کا شامل ہونا نہ صرف انسانی حقوق کے معیارات سے متصادم ہے بلکہ یہ جبری شہریت چھیننے اور اجتماعی سزا کی ایک مثال ہے جسے اقوام متحدہ کے نگران اداروں نے سختی سے منع کیا ہے۔
مجمع جهانی اہل البیت (ع) تاکید کرتا ہے کہ ایران کی حمایت یا غیر ملکی اداروں کے لیے جاسوسی کے جھوٹے اور بار بار لگائے جانے والے الزامات بحرین میں مخالفین کو کچلنے اور شہری حقوق کی منظم طریقے سے خلاف ورزی کرنے کا محض بہانہ ہیں۔ یہ جابرانہ رویہ مطلق العنان نظاموں کے غیر انسانی رویوں کی یاد دلاتا ہے اور بحرین میں قانون کی حکمرانی کے بارے میں کسی بھی دعوے کی ساکھ کو مکمل طور پر نقصان پہنچاتا ہے۔
جمہوریہ اسلامی ایران متاثرہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے اور اس غیر انسانی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس طرح کے طریقہ کار کے پھیلنے کے خطرناک نتائج کے بارے میں خبردار کرتا ہے اور تمام ممالک پر زور دیتا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے معیارات اور شہریت سے من مانی محرومی کی ممانعت کی پابندی کریں۔









آپ کا تبصرہ