حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بعض عرب ممالک کی طرف سے شیعیانِ اسلام کو جلاوطن کرنے، تشدد اور قید کرنے جیسے واقعات پر جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ نے ایک بیان جاری کرکے اس معاملے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ اس بیان کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایران اسلامی کے خلاف امریکی-صہیونی مجرمانہ جارحیت اور خلیج فارس کے بعض عرب ریاستوں کے ان خبیث اور شیطانی رژیموں کے ساتھ ہم آہنگی کے بعد، ایرانی قوم اور پوری دنیائے اسلام میں موجود مسلم اقوام اور دنیا کے آزاد لوگوں کے درمیان ایک بے مثال ہم دلی پیدا ہو گئی ہے۔
دنیائے اسلام کے مشرق سے مغرب تک، ایشیا کے کونے کونے سے لے کر افریقہ کی گہرائیوں تک تمام اقوام ایرانی عوام کے ساتھ ہیں اور جارحین کو ایران کے قاطعانہ جواب کی حمایت کرتی ہیں۔
اس درمیان استکبار کے تابع حکومت خصوصاً خطے کی عرب حکومتیں، استکبار کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے فرقہ وارانہ جنگ اور شیعہ و سنی کے درمیان جنگ چھیڑنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اپنے ممالک میں شیعہ شہریوں پر دباؤ ڈال کر ان کے خلاف ظالمانہ اور غیر انسانی رویوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ جلاوطنی، تشدد اور قید و بند کی صعوبتیں ان غیر انسانی رویوں کا ایک حصہ ہیں اور بلاشبہ یہ اقدامات صہیونی اور امریکی سازشوں سے ماخوذ ہیں۔
ایران کے سیاسی ڈھانچے کی بنیاد "أَشِدَّاءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَاءُ بَیْنَهُمْ" ہے اور اس سلسلے میں وہ اپنے اسلامی اصولوں پر زور دیتا ہے۔ امت مسلمہ جان لے کہ جہاں بھی مسلم معاشروں میں عداوت اور بغض پیدا ہوا ہے، وہاں شیطان کا ہاتھ رہا ہے "إِنَّمَا یُرِیدُ الشَّیْطَانُ أَن یُوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ"۔
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم بحرین، کویت، امارات اور دیگر عرب ریاستوں میں شیعہ برادری اور علماء دین کے خلاف غیر اسلامی اور غیر انسانی اقدامات کی شدید مذمت کرتا ہے اور ان حکمرانوں کے قرآنی تعلیمات سے اس قدر دوری پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے تاکید کرتا ہے کہ دنیائے اسلام کی تمام صلاحیتیں استکبار اور غاصب صہیونی رژیم کو روکنے اور پھر استکبار کی دنیا کو پیچھے دھکیلنے اور خطے سے ان کے تسلط کو ختم کرنے میں صرف ہونی چاہئیں اور یہ ایک ایمانی ذمہ داری ہے۔
ہم عالم اسلام کے علماء سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ استکبار کے مقابلے میں قاطعانہ طور پر قیام کریں اور تفرقہ اور سنی و شیعہ تنازعہ پیدا کرنے جیسے امور کو باطل قرار دیں۔ ایران اسلامی ہمسایوں اور پوری امت مسلمہ کا دوست اور خیرخواہ ہے اور یہ ضد شیعی تحرکیں ان کے لیے بحران سے نکلنے کا کوئی راستہ فراہم نہیں کریں گی۔
امید ہے کہ امت مسلمہ اور عالم اسلام کے تمام علماء فکری اور عملی وسائل کو ضد اسلامی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے بروئے کار لائیں گے اور استکبار کے خلاف وحدت کے ذریعے امت مسلمہ کی حمایت کریں گے۔
جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم









آپ کا تبصرہ