حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، «اتحاد جوانان انقلاب 14 فروری» کے پلیٹ فارم سے اعلان کیا گیا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کی فورسز نے آج شیعہ برادری کے متعدد علما اور مذہبی شخصیات کے گھروں پر بڑے پیمانے پر دھاوا بول کر ایک ایسا اقدام کیا ہے جسے مبصرین حالیہ برسوں کا خطرناک ترین واقعہ قرار دے رہے ہیں۔ یہ اقدام بحرین میں قانونی و سیاسی صورتحال کے زوال کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔
اس رپورٹ کے مطابق، اب تک گرفتار ہونے والوں اور جن علماء کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، ان میں درج ذیل افراد شامل ہیں:
حجج الاسلام والمسلمین:
۱. شیخ محمد صنقور
۲. شیخ محمود عالی
۳. شیخ علی صددی
۴. شیخ علی حمیدان
۵. شیخ جاسم مؤمن
۶. شیخ علی رحمه
۷. شیخ حامد عاشور
۸. شیخ فاضل زاکی
۹. شیخ رضی قفاص
۱۰. شیخ منیر معتوق
۱۱. شیخ غازی سماک
۱۲. شیخ صادق عافیه
۱۳. شیخ علی متغوی
۱۴. شیخ محمدجواد شهابی
۱۵. شیخ هانی بناء
۱۶. شیخ جاسم خیاط
۱۷. شیخ محمد خرسی
۱۸. شیخ محمود عاشور
۱۹. شیخ ایوب بحرانی
۲۰. شیخ عیسی مؤمن
۲۱. شیخ جمیل عالی
۲۲. سید محمد غُریفی
۲۳. شیخ علی ناجی هملی
۲۴. شیخ باقر حواج
۲۵. شیخ رائد ستری
۲۶. سید صادق مالکی
۲۷. شیخ حمزه دیری
۲۸. شیخ علی حسن صیبعی
۲۹. شیخ حسین محروس
۳۰. شیخ علی سلیم
۳۱. سید احمد غریفی
رپورٹ کے مطابق، یہ کارروائی صرف گرفتاریوں تک محدود نہیں رہی بلکہ شدید جبری وارداتیں بھی کی گئیں، جو چاردیواری کی واضح بے حرمتی کے ساتھ ہوئیں۔ ان حملوں میں، جو آج صبح سے شروع ہوئے، علماء کرام کے خانوادوں اور بچوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ یہ طرز عمل جبر و تشدد اور معاشرے کی حوصلہ شکنی پر مبنی سیکیورٹی پالیسی کا عکاس ہے۔
کارکنوں کا ماننا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک عارضی سیکیورٹی آپریشن سے کہیں بڑھ کر ہے اور عملاً شیعہ برادری کی مذہبی شناخت اور بحرین میں اس کی سماجی موجودگی کے خلاف براہِ راست حملہ ہے۔ یہ اقدامات مسلسل پالیسی کے تحت تنگ کرنے، خارج کرنے اور اثر رساں مذہبی و سماجی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
«اتحاد جوانان انقلاب 14 فروری» کے پلیٹ فارم نے آخر میں لکھا ہے: آج بحرین میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ریکارڈ پر ایک نیا کلنک ہے اور اسی تعطل کے پہلوؤں کو ظاہر کرتا ہے جس کا سامنا آل خلیفہ حکومت کو حقیقی شیعہ برادری سے ہے۔ یہ وہ تعطل ہے جو بنیادی حقوق اور آزادیوں کے احترام کے بجائے جبر و تعاقب کے ہتھیار استعمال کرنے کا نتیجہ ہے۔
واضح رہے کہ بحرین میں آل خلیفہ حکومت نے رمضان جنگ کے آغاز سے ہی جمہوریہ اسلامی ایران کے خلاف اپنی پوزیشن کی بنا پر مخالفین، کارکنوں اور علما کے خلاف جابرانہ حملوں اور بڑے پیمانے پر گرفتاریوں میں شدت پیدا کر دی ہے۔









آپ کا تبصرہ