حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے انقلابی عالم حجت الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ الدقاق نے ایک شدید لہجے میں جاری بیان میں منامہ کے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین اس کے عوام کی ملکیت ہے، اور آلِ خلیفہ حکومت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ عوام کی اجازت کے بغیر امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں شریک ہو۔
شیخ عبداللہ الدقاق نے اپنے بیان میں کہا کہ بحرین کی سرزمین کو بیرونی طاقتوں کے مفادات کے لیے استعمال کرنا عوام کی مرضی اور قومی خودمختاری کے خلاف اقدام ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ بحرینی عوام اپنی سرزمین کو امریکی فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔
انہوں نے آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک غیر معمولی اور انتہائی سنگین واقعہ ہے، جسے انہوں نے “ریاستی دہشت گردی” اور “جنگی جرم” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا اور شہداء کے خون کا مطالبہ کرنا شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔
بحرینی عالم نے آلِ خلیفہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے معاہدات پر نظرثانی کرے، امریکہ کے ساتھ عسکری تعاون ختم کرے اور امریکی پانچویں بحری بیڑے کو فوری طور پر بحرین سے نکال دے۔
انہوں نے کہا کہ خطے میں غیر ملکی افواج کی موجودگی مسلسل کشیدگی، عدم استحکام اور بیرونی مداخلت کا سبب بن رہی ہے، اور وہ دن دور نہیں جب خلیج فارس سمیت پورے خطے سے تمام غیر ملکی افواج کو نکلنا پڑے گا۔
شیخ عبداللہ الدقاق نے اپنے بیان کے اختتام پر اس امید کا اظہار کیا کہ آخرکار حق کی فتح ہوگی، اسلامی جمہوریہ ایران سرخرو ہوگا اور امریکہ و اسرائیل کو ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔









آپ کا تبصرہ