جمعرات 2 اپریل 2026 - 19:46
ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام پیغام: ایرانی بنیادی ڈھانچوں پر حملہ، دشمن کی پائیدار راہ حل حاصل کرنے میں ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے

حوزہ/ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام ایک پیغام میں یہ سوال کرتے ہوئے کہ کیا یہ جنگ امریکی عوام کے اصلی مفادات کے لیے ہے؟ کہا کہ ایرانی اہم بنیادی ڈھانچے بشمول توانائی اور صنعتی تنصیبات پر حملے شروع کرنا ایک ایسا عمل ہے جو براہِ راست ایرانی عوام کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے، یعنی اس سے عدم استحکام پھیلتا ہے، انسانی اور اقتصادی اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے اور تناؤ کا ایک سلسلہ پیدا ہوتا ہے اور دشمنی کے بیج بوئے جاتے ہیں جس کے اثرات برسوں تک جاری رہیں گے؛ یہ راستہ طاقت کی علامت نہیں ہے، بلکہ پائیدار راہ حل کے حصول میں ناتوانی اور ناکامی کی علامت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے امریکی عوام کے نام پیغام کا تفصیلی متن مندرجہ ذیل ہے۔

بسم الله الرحمٰن الرحیم

امریکی عوام اور ان لوگوں کے نام جو بہت ساری تحریفات اور من گھڑت بیانیوں کے درمیان، حقیقت اور بہتر زندگی کی تلاش میں ہیں۔

ایران، ایک ہی نام، ایک ہی شناخت اور ایک ہی وجود کے ساتھ، انسانی تاریخ کے سب سے قدیم ترین اور متواتر تمدن میں سے ایک ہے۔ ایک ایسا تمدن جس نے مختلف اوقات میں تاریخی اور جغرافیائی فوائد سے لطف اندوز ہونے کے باوجود اپنی عصری تاریخ میں کبھی جنگ، جارحیت، استعمار اور تسلط کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ عالمی طاقتوں کے قبضے کرنے کے تجربات، جارحیت اور دباؤ کا سامنا کرنے کے باوجود اور ارد گرد کے کئی ممالک پر فوجی صلاحیت کے باوجود اس نے جنگ مسلط نہیں کی، بلکہ شجاعت مندانہ طریقے سے جارحوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

ایرانی قوم کی امریکی، یورپی اور اپنے پڑوسیوں سمیت دیگر اقوام سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ ایرانیوں نے پوری تاریخ میں بیرونی حکومتوں کی مداخلتوں اور دباؤ کے باوجود ہمیشہ قوموں اور حکومتوں کے درمیان فرق کیا ہے؛ یہ ایک اصول ہے جو اس قوم کے ذہن اور ثقافت میں گہرائی سے پیوست ہے، کوئی طبقاتی حیثیت نہیں۔

اس بنیاد پر ایران کو ایک خطرے کے طور پر پیش کرنا نہ تو تاریخی حقیقت سے مطابقت رکھتا ہے اور نہ ہی آج کے معروضی حقائق سے۔ یہ تصویر طاقت کے ڈھانچے کی سیاسی اور معاشی ضروریات کی پیداوار ہے۔ دباؤ کا جواز پیش کرنے، فوجی برتری کو برقرار رکھنے، ہتھیاروں کی صنعت کو بڑھانے اور اسٹریٹجک منڈیوں کا انتظام کرنے کے لیے دشمن سازی کی ضرورت ہے ایسے فریم ورک میں اگر کوئی خطرہ نہ بھی ہو تو پیدا کیا جاتا ہے۔

اس نقطۂ نظر کے نتیجے میں، آج امریکی افواج، اڈوں اور فوجی صلاحیتوں کا سب سے بڑا مرکز ایران کے گرد قائم ہو چکا ہے، جس نے کم از کم امریکہ کے وجود کے آغاز سے لے کر اب تک کوئی جنگ شروع نہیں کی ہے۔ ان اڈوں سے حالیہ امریکی جارحیت نے اس طرح کی موجودگی کی خطرناک نوعیت کو ثابت کر دیا ہے اور یہ ظاہر ہے کہ کوئی بھی ملک ایسے حالات میں اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ ایران نے جو کچھ کیا اور کر رہا ہے وہ صرف ردعمل اور دفاع ہے، حملہ، جنگ اور جارحیت کا آغاز نہیں۔

ایران امریکہ تعلقات تصادم کی بنیاد پر قائم نہیں ہوئے تھے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات دشمنی یا کشیدگی کے بغیر آگے بڑھ سکتے تھے۔ اس راستے میں اہم موڑ 1953 کی بغاوت تھی؛ ایک ایسی مداخلت کہ جس کا مقصد ایران کے وسائل کو قومی ہونے سے روکنا، جمہوریت کے عمل کو روکنا، آمریت کو بحال کرنا، اور امریکی پالیسیوں کے بارے میں ایرانیوں کے ذہنوں میں عدم اعتماد پیدا کرنا تھا۔ یہ بداعتمادی، انقلاب سے پہلے کی حکومت کی حمایت، مسلط کردہ جنگ میں صدام حسین کی حمایت، طویل ترین اور وسیع ترین پابندیوں کے نفاذ اور بالآخر ایران کے خلاف براہِ راست فوجی کاروائی سے مزید گہری ہوئی ہے۔

اس تمام دباؤ کے باوجود، ایران نہ صرف کمزور ہوا ہے، بلکہ مختلف شعبوں میں مضبوط بھی ہوا ہے: خواندگی کی شرح میں چشم کشا اور تین گنا اضافہ (30 فیصد سے 90 فیصد تک)، اعلیٰ تعلیم کی ترقی، نئی ٹیکنالوجیز میں پیشرفت، صحت کی خدمات کی توسیع اور انفراسٹرکچر کی قابلِ ذکر اور بے مثال مضبوطی ملک کی داخلی صلاحیت اور طاقت کو ظاہر کرتی ہے۔ میڈیا کے بیانیے سے آزاد ہو کر ان حقائق کا مشاہدہ اور پیمائش کی جا سکتی ہے۔

یقیناً ایران کے شجاع عوام کی زندگیوں پر پابندیوں، جنگ اور جارحیت کے تباہ کن اور غیر انسانی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حالیہ حملوں سمیت فوجی کاروائیوں کا تسلسل فطری طور پر قوموں کے نقطۂ نظر اور جذبات کو متاثر کرتا ہے۔ یہ ایک انسانی حقیقت ہے: جو لوگ جنگ کی قیمت اپنی جانوں، گھروں، شہروں اور مستقبل سے ادا کرتے ہیں وہ اس کے مرتکب افراد سے لاتعلق نہیں رہیں گے۔

اس دوران، ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:

کیا یہ جنگ امریکی عوام کے اصل مفاد میں ہے؟

ایران کی طرف سے ایسا کون سا معروضی خطرہ لاحق تھا جو اس طرح کے اقدامات کو جواز فراہم کرے گا؟

کیا بے گناہ بچوں کا قتل عام، کینسر کے دوا ساز مراکز کی تباہی، یا پتھر کے زمانے میں دھکیلنے والی ہرزہ سرائی کے ساتھ ایک قوم پر بمباری کرنے سے امریکی عالمی امیج کو مزید نقصان پہنچانے کے علاوہ کوئی فائدہ ہے؟

ایران مذاکرات کے راستے پر گامزن رہا ہے، ایک معاہدے تک پہنچا ہے اور اپنے وعدوں پر عمل کیا ہے۔ معاہدے سے دستبرداری اور تصادم کی طرف بڑھنا اور پھر مذاکرات کے درمیان دو مرتبہ حملے، غیر ملکی جارحیت پسندوں کی خواہشات کی تکمیل میں امریکی حکومت کے تباہ کن فیصلے تھے۔

ایران کے اہم اور بنیادی ڈھانچے بشمول توانائی اور صنعتی تنصیبات پر حملے کرنا ایک ایسا عمل ہے جو براہِ راست ایرانی عوام کو نشانہ بناتا ہے اور جنگی جرم ہونے کے علاوہ اس کے نتائج بلاشبہ ایران کی سرحدوں سے باہر بھی مرتب ہوں گے۔ ان حملوں کا مطلب، عدم استحکام پھیلانا، انسانی اور معاشی اخراجات میں اضافہ اور تناؤ کا ایک سلسلہ پیدا کرنا اور دشمنی کے بیج بونا ہے جس کے اثرات برسوں تک رہیں گے۔ یہ راستہ طاقت کی علامت نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک پائیدار راہ حل حاصل کرنے میں ناکامی کی علامت ہے۔

کیا اس کے علاوہ کچھ اور ہے کہ امریکہ اسرائیلی پراکسی کے طور پر اور اس حکومت کے اکسانے پر اس جارحیت پر اتر آیا ہے؟

کیا یہ اس کے علاوہ کچھ اور ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف کھلی دھمکی دے کر عالمی رائے عامہ کو اپنے جرائم سے ایران کی طرف سے پیش کردہ غیر حقیقی خطرے کی طرف مرکوز کرنا چاہتا ہے؟

کیا اب یہ اسرائیل کے علاوہ کوئی اور ہے جو ایران کے ساتھ آخری امریکی فوجی اور امریکیوں کے ٹیکس سے لڑنے کا فیصلہ کر رہا ہے؟

کیا اسرائیل ایران، خطے کے ممالک اور امریکہ پر جنگ کی قیمتیں عائد کر کے خود کو محفوظ تصور کر رہا ہے؟

کیا واقعی آج امریکہ کی حکومت کی پہلی ترجیح امریکہ ہی ہے؟

میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ میڈیا جو ایران آئے ہیں اور خود جنگ کا حصہ ہیں، کے ٹارگٹڈ پروپیگنڈے پر توجہ دینے کے بجائے ایرانیوں کے اعدادوشمار پر نظر ڈالیں جو ایران میں اعلیٰ تعلیم کے بعد دنیا کی بہترین یونیورسٹیوں میں پڑھاتے اور تحقیق کر رہے ہیں یا اہم ترین کمپنیوں میں کام کر رہے ہیں۔

کیا یہ حقائق ایران کے بارے میں جو میڈیا آپ کو بتاتا ہے اس کے مطابق ہیں؟

آج دنیا ایک ایسے موڑ پر ہے جہاں تصادم کا راستہ جاری رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ مہنگا اور بے نتیجہ ہے۔ تصادم اور تعامل کے درمیان انتخاب، ایک حقیقی اور سرنوشت ساز انتخاب ہے؛ ایک ایسا انتخاب جس کے نتائج نسلوں کے مستقبل کا تعین کریں گے۔ ایران نے اپنے ہزاروں سال کے شاندار وجود کے دوران بہت سے جارحین دیکھے ہیں۔ تاریخ میں جو کچھ باقی ہے وہ ان کا شرمناک نام ہے اور ایران آج بھی فخر سے کھڑا ہے۔

مسعود پزشکیان؛ صدرِ اسلامی جمہوریہ ایران

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha