جمعرات 2 اپریل 2026 - 17:12
امریکہ کے عوام کے نام ایرانی صدر کا پیغام: ایران کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ دشمن کی ناکامی کا ثبوت ہے

حوزہ/ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایران کے توانائی اور صنعتی مراکز سمیت بنیادی ڈھانچے پر حملے اس بات کی علامت ہیں کہ دشمن کسی پائیدار حل تک پہنچنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام اپنے ایک اہم پیغام میں کہا ہے کہ ایران کے توانائی اور صنعتی مراکز سمیت بنیادی ڈھانچے پر حملے دراصل ایرانی عوام کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں، اور یہ اقدامات طاقت نہیں بلکہ دشمن کی بے بوکھلاہٹ، الجھن اور کسی پائیدار حل تک پہنچنے میں ناکامی کی علامت ہیں۔

تہران سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام اور ان تمام افراد کے نام ایک تفصیلی پیغام جاری کیا ہے جو “جھوٹے بیانیوں اور من گھڑت پروپیگنڈے کے درمیان حقیقت کی تلاش میں ہیں”۔ اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ امریکہ کی حالیہ جارحیت، جو خطے میں قائم اس کے فوجی اڈوں سے شروع ہوئی، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایسی عسکری موجودگی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

صدر پزشکیان نے کہا کہ آج دنیا ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں تصادم کی پالیسی پہلے سے کہیں زیادہ مہنگی، خطرناک اور بے نتیجہ ثابت ہو رہی ہے۔ ان کے بقول، آج اصل انتخاب جنگ اور مکالمے کے درمیان ہے، اور یہی انتخاب آنے والی نسلوں کے مستقبل کا تعین کرے گا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں زور دے کر کہا کہ ایران ایک قدیم اور مسلسل زندہ رہنے والی تہذیب ہے، جس نے اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں کبھی جنگ، استعمار، غلبہ یا جارحیت کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران نے قبضے، حملوں اور عالمی طاقتوں کے دباؤ کا سامنا کیا، لیکن اس کے باوجود اس نے کبھی جنگ کا آغاز نہیں کیا، البتہ ہر حملہ آور کو بہادری کے ساتھ پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا ہے۔

صدر ایران نے واضح کیا کہ ایرانی قوم کو امریکی، یورپی یا کسی بھی دوسرے ملک کے عوام سے کوئی دشمنی نہیں۔ ان کے مطابق ایرانی قوم نے ہمیشہ حکومتوں اور عوام کے درمیان فرق رکھا ہے، اور یہ رویہ ایران کی تہذیبی سوچ اور قومی مزاج کا حصہ ہے۔

انہوں نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیے جانے والے بیانیے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ تصویر حقیقت پر مبنی نہیں بلکہ طاقتور حلقوں کی سیاسی اور اقتصادی ضرورتوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق دشمن تراشنے کا یہ عمل فوجی برتری برقرار رکھنے، اسلحہ ساز صنعتوں کو تقویت دینے اور اسٹریٹجک منڈیوں پر کنٹرول کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔

ڈاکٹر پزشکیان نے ایران اور امریکہ کے تعلقات کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ دونوں قوموں کے تعلقات ابتدا میں تصادم پر مبنی نہیں تھے، لیکن 1953ء میں ایران کے قومی وسائل کو بچانے کی کوششوں کے خلاف ہونے والی بغاوت نے اس تعلق کو بدل دیا۔ ان کے بقول، اسی مداخلت نے ایران میں جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آمریت کو واپس لایا اور ایرانی عوام کے دلوں میں امریکہ کی پالیسیوں کے حوالے سے بداعتمادی پیدا کی، جو بعد میں صدام حسین کی حمایت، طویل ترین پابندیوں اور براہِ راست عسکری اقدامات سے مزید گہری ہوتی گئی۔

صدر ایران نے کہا کہ ان تمام دباؤ کے باوجود ایران کمزور نہیں ہوا بلکہ مختلف شعبوں میں مزید مضبوط بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی میدان میں نمایاں اضافہ، اعلیٰ تعلیم کی توسیع، جدید ٹیکنالوجی میں پیش رفت، صحت کے شعبے میں ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی ایران کی اندرونی صلاحیت اور استقامت کا ثبوت ہیں۔

تاہم انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ جنگ، پابندیوں اور جارحیت کے غیر انسانی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق جب ایک قوم اپنے جان و مال، گھروں، شہروں اور مستقبل کی قیمت چکاتی ہے تو وہ اس کے ذمہ دار عناصر کے بارے میں بے حس نہیں رہ سکتی۔

صدر پزشکیان نے امریکی عوام سے براہِ راست سوال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگ آخر امریکی عوام کے کس حقیقی مفاد کے لیے لڑی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایران سے کوئی حقیقی خطرہ موجود نہیں تو پھر بچوں کے قتل عام، کینسر کی ادویات تیار کرنے والے مراکز کو نشانہ بنانے اور ایک پوری قوم کو “پتھر کے دور” میں واپس بھیجنے کی دھمکیوں کا کیا جواز ہے؟

انہوں نے یاد دلایا کہ ایران نے مذاکرات کا راستہ اپنایا، معاہدہ کیا اور اپنی ذمہ داریاں پوری کیں، لیکن معاہدے سے نکلنے، تصادم کی طرف بڑھنے اور پھر مذاکرات کے دوران دو مرتبہ حملہ کرنے جیسے فیصلے امریکہ کی جانب سے کیے گئے۔

صدر ایران نے خاص طور پر خبردار کیا کہ ایران کے توانائی اور صنعتی مراکز سمیت بنیادی ڈھانچے پر حملے صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ ان کے اثرات پورے خطے اور عالمی سطح تک پھیل سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے نہ صرف ایک جنگی جرم ہیں بلکہ یہ خطے میں مزید عدم استحکام، انسانی اور معاشی نقصان اور طویل مدتی نفرت و کشیدگی کو جنم دیں گے۔

اپنے پیغام میں انہوں نے اسرائیل کا نام لیے بغیر اس پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف خطرے کا جعلی و مصنوعی بیانیہ دراصل بعض قوتوں کی جانب سے اپنے جرائم سے عالمی توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا امریکہ دراصل اسرائیل کے اکسانے پر ایک ایسی جنگ میں داخل نہیں ہوا جس کی قیمت امریکی فوجیوں، امریکی ٹیکس دہندگان، ایران اور پورے خطے کو چکانی پڑ رہی ہے؟

صدر پزشکیان نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ یک طرفہ میڈیا پروپیگنڈے کے بجائے زمینی حقائق کو دیکھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران آنے والے غیر ملکیوں کے تجربات، دنیا کی ممتاز یونیورسٹیوں اور بڑی کمپنیوں میں کام کرنے والے ایرانی ماہرین، اور ایران کی سائنسی و تعلیمی ترقی خود اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران کی اصل تصویر وہ نہیں جو بعض ذرائع ابلاغ پیش کرتے ہیں۔

اپنے پیغام کے اختتام پر صدر ایران نے کہا کہ آج کی دنیا کو جنگ نہیں بلکہ تعامل، مکالمہ اور حقیقت پسندی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں بے شمار حملہ آوروں کو دیکھا ہے، لیکن وقت نے ثابت کیا کہ جارح قوتوں کے حصے میں صرف رسوائی آئی، جبکہ ایران آج بھی وقار، استقامت اور سربلندی کے ساتھ کھڑا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha