۹ مهر ۱۴۰۱ |۵ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 1, 2022
ایران کے صدر نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شہید قاسم سلیمانی کی تصویر کو کیا بلند

حوزہ/ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں شہید قاسم سلیمانی کی تصویر کو بلند کرتے ہوئے کہا: داعش کو نابود اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ہیرو تھے ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حجۃ الاسلام و المسلمین سید ابراہیم رئیسی نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں اپنے خطاب کے دوران لیفٹیننٹ جنرل شہید قاسم سلیمانی کی تصویر بلند کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا ہیرو اور داعش کو نابود کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ لیفٹیننٹ جنرل حاج قاسم سلیمانی تھے کہ جو خطے کے عوام کی آزادی کی خاطر اپنی جان کا نذرانہ دے گئے جب کہ سابق امریکی صدر نے اس سنگین جرم کی دستاویز اپنے نام کی۔ ایرانی صدر کے اس اقدام کا عراق اور لبنان کے سوشل میڈیا پر اچھا خاصہ اثر پڑا ہے۔

رپورٹ کے مطابق،اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کے خطاب کی تصاویر اور شہ سرخیاں اس قدر دلچسپ ہیں کہ ایک تصویر میں صدر رئیسی اقوام متحدہ کے اجلاس میں ایران کی سپاہ قدس کے کمانڈر قاسم سلیمانی کی تصویر اٹھائے دکھائی دے رہے ہیں۔ شہید قاسم سلیمانی کی تصویر اٹھا کر صدر رئیسی نے اقوام عالم کے سامنے سابق امریکی صدر کے جرم کا ثبوت پیش کیا اور کہا کہ دنیا کو اس جرم کے مرتکب کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیئے۔

صدر رئیسی نے اپنے خطاب کے دوران واضح کیا کہ ایران کے نمائندہ کی حیثیت سے میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا، ایران کی دفاعی ڈاکٹرائن میں ایٹمی ہتھیار کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایرانیوں کے لئے آیت اللہ خامنہ کا شرعی فتویٰ کسی بھی عالمی نگرانی سے اہم تر اور مؤثر تر ہے۔ صدر رئیسی نے کہا کہ ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام عالمی ایٹمی پروگراموں کا فقط دو فیصد ہے جبکہ 35 فیصد سوالات ہم سے کئے گئے ہیں۔

صدر رئیسی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمارے ساتھ دشمنی کی واحد وجہ یہ ہے کہ ہم ظلم کو قبول نہیں کرتے، نہ ہم ظلم کرتے ہیں اور نہ تحت ظلم رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری منطق کی جڑیں قرآنی ثقافت میں پیوست ہیں جو کہتا ہے کہ نہ ظلم کرو نہ ظلم کے تحت زندگی گزارو، جو ممالک منطق سے عاری ہیں وہ طاقت کا استعمال کرتے ہیں ایسے ممالک بغاوت، دہشت گردی اور اسی قسم کی دیگر نا انصا فیوں کا ارتکاب کرتے ہیں۔ انہوں نے اقوام عالم کے رہنماؤں سے سوال کیا کہ ایران نے اپنے حقوق کے علاوہ کس چیز کا تقاضہ کیا ہے کہ جس نے دنیا کے تسلط پسندوں کو آزردہ کر دیا ہے؟۔

صدر رئیسی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ مجھے ایک ایسی قوم کی نمائندگی کرنے پر فخر ہے جو ایک بڑی تہذیب کی وارث ہے۔ ایرانی ہمیشہ ایک آزاد قوم رہے ہیں اور انہوں نے طول تاریخ میں اپنی تقدیر پر تسلط کی خواہش رکھنے والوں کو ناکام کیا ہے۔ صدر رئیسی نے کہا کہ ہم اپنی قوم کے حقوق کے دفاع کے لئے ہمہ وقت تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران عالمی برادرای کے ساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کبھی بھی مسائل کا حل نہیں ہوتی ہے، مذاکرات کا راستہ ہی مسائل کو حل کرنے کا راستہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کسی بھی خطے کے مسائل کا حل علاقائی طور پر ہونا چاہیئے، بیرونی مداخلت سے مسائل حل نہیں ہو سکتے۔

صدر رئیسی نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ دنیا میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک دنیا کا نظام عدالت کے معیارات کے مطابق نہ ہو۔ صدر رئیسی کہا کہ ہم سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک منصفانہ عدالت کے ذریعے ایرانی عوام کے خلاف ان کے جرائم، خاص طور پر شہید قاسم سلیمانی کے قتل کے لئے مجرم قرار دینے کے طریقہ کار پر عمل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عدل و انصاف اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ہے اور ایران انصاف کا خیرمقدم کرتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کو متحد کرتا ہے جبکہ ناانصافی تنازعات اور جنگوں کا باعث بنتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ انصاف پر عمل کرنا مشکل ہے اور یہی وجہ ہے کہ انصاف کے بہت سے نام نہاد وکیل انصاف کے عمل سے بھاگ جاتے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ نا انصافیوں کا ہونا انسانی تحریکوں کا سبب بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا میں بہت سے انقلاب اپنی اصل راہ سے ہٹ چکے ہیں لیکن کچھ انقلابات منجملہ انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی دنیا بھر کے لوگوں کے دلوں میں انصاف کی امید کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔

صدر اسلامی جمہوریہ ایران کے اس خطاب کے حوالے سے عالمی میڈیا پر خاصی سرگرمی دیکھنے کو ملی۔فرانس 24نیوز نے صدر رئیسی کے خطاب کو اس انداز سے بیان کیا کہ صدر رئیسی نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتا ہے، دنیا اس خطاب کی منتظر تھی۔ ڈیلی میل نے خبر لگائی کہ ایران ایٹمی معاہدہ کرنا چاہتا ہے لیکن اس نے سوال اٹھایا ہے کہ امریکا کے 2018ء میں یکطرفہ انخلاء کے بعد کیا امریکی وعدوں پر اعتبار کیا جاسکتا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس نے بھی صدر رئیسی کے خطاب سے اسی امر کو شہ سرخی بنایا اس کے باوجود بائیڈن نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار نہیں بنانے دیں گے۔ میرے خیال میں ایٹمی ہتھیار فقط ایک بہانہ ہے اگر یہ بہانہ نہیں رہے گا تو اعتراض کے لئے دوسرا تلاش کرلیا جائے گا۔ اصل بات وہی ہے کہ ایران نہ ظلم کرتا ہے نہ ظلم کے تحت جیتا ہے اور دنیا کو بھی ظلم کے خلاف قیام کی عملی دعوت دیتا ہے۔ اس کی یہ دعوت عراق، لبنان، شام، فلسطین اور یمن میں سنی جاچکی ہے اور یہ اقوام بھی ہر ظلم کے خلاف قیام کئے ہوئے ہیں، یہ روشنی بھلا ظالم کو کیسے برداشت ہوسکتی ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 7 =