حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 22 بہمن انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کی سالگرہ کی ریلیوں اور تقریبات میں عوام کی بھرپور شرکت کو نظام اسلامی کے لیے عوامی حمایت کی واضح علامت قرار دیتے ہوئے آیت اللہ سعیدی نے کہا ہے کہ موجودہ حساس حالات میں قومی اتحاد کا تحفظ سب سے بڑی ضرورت ہے۔
آیت اللہ سعیدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ حالیہ ریلیوں میں عوام کی بڑی اور منظم شرکت نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ایرانی قوم اپنے سیاسی نظام کی مضبوط پشت پناہ ہے۔ انہوں نے رہبر انقلاب اسلامی آیتالله سید علی خامنہای کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے زور دیا کہ قومی اتحاد کو ہر حال میں محفوظ رکھنا وقت کی اہم ترین ذمہ داری ہے۔
انہوں نے “قوی ایران” کو ایک اسٹریٹجک نظریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد اقتصادی، ثقافتی، دفاعی اور سماجی میدانوں میں ملک کو خود کفیل اور طاقتور بنانا ہے۔ ان کے مطابق قومی طاقت ہر ملک کی بنیادی ضرورت ہوتی ہے، تاہم ایران کے لیے یہ اہمیت اس لیے دوچند ہو جاتی ہے کہ وہ عالمی طاقتوں، بالخصوص امریکہ، کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
اپنے خطاب میں آیت اللہ سعیدی نے امریکی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے خطے میں ایران کے خلاف کوئی بڑی عسکری غلطی کی تو اسے اس کے سنگین نتائج بھگتنا ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ ایرانی عوام کا نعرہ “امریکہ مردہ باد” امریکی عوام کے خلاف نہیں بلکہ امریکی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف ہے۔
انہوں نے ثقافتی شناخت اور طرزِ زندگی کو بھی قومی طاقت کا اہم ستون قرار دیا اور مصطفی کمال آتاترک اور رضا شاه پہلوی کے ادوار کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ مغربی طرز کی اصلاحات نے معاشروں کو ان کی مذہبی اور ثقافتی شناخت سے دور کیا، جس کے منفی اثرات آج بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
آیت اللہ سعیدی نے مساجد کو اسلامی معاشرے کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ سماجی تنظیم اور فکری مزاحمت کا مضبوط قلعہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ فسادات میں بعض مساجد کو نقصان پہنچا، تاہم عوام نے انہیں دوبارہ تعمیر کر کے اپنے دینی اور انقلابی وابستگی کا عملی ثبوت دیا۔ ان کے بقول “مساجد اور عوام ہماری دفاعی طاقت کی اصل پشت پناہی ہیں۔”
خطبے کے پہلے حصے میں انہوں نے اخلاقی و روحانی موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کی جس میں دنیا پرستی سے اجتناب کی تلقین کی گئی ہے۔ انہوں نے قرآن مجید کے سورۂ فتح کی ایک آیت کا حوالہ دے کر کہا کہ حقیقی اقتدار خدا کے پاس ہے اور مغفرت کے لیے توبہ، دعا اور دل کی صفائی ضروری ہے۔
اسی طرح امام علی اور امام رضا کے اقوال نقل کرتے ہوئے انہوں نے ماہِ شعبان کے آخری ایام میں دعا، استغفار اور باہمی کدورتیں ختم کرنے کی تلقین کی۔









آپ کا تبصرہ