منگل 25 مارچ 2025 - 06:47
عراق میں امریکی و صہیونی نفوذ، خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے: امام جمعہ بغداد

حوزہ/ امام جمعہ بغداد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے عراق میں امریکہ اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے ملکی استحکام اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے اتحاد پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ بغداد آیت اللہ سید یاسین موسوی نے عراق میں امریکہ اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر سخت تنبیہ کرتے ہوئے ملکی استحکام اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے اتحاد پر زور دیا۔

نماز جمعہ کے خطبے میں، آیت اللہ موسوی نے عالمی سطح پر جاری بحرانوں اور ان کے خطے پر اثرات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں جاری افراتفری، عالمی امن و استحکام کے بارے میں سنگین سوالات کو جنم دے رہی ہے۔

انہوں نے امریکی اور صہیونی پالیسیوں کو جنگ اور تباہی کا موجب قرار دیتے ہوئے کہا کہ "ہم امن کے خواہاں ہیں، لیکن ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد، دنیا نے صرف تشدد اور قتل و غارت گری میں اضافہ ہی دیکھا ہے۔" انہوں نے سابق امریکی صدر کو ایک مجرمانہ گروہ کا سرغنہ قرار دیا جو کسی بھی انسانی یا قانونی اقدار کی پرواہ کیے بغیر جرائم کا ارتکاب کرتا ہے۔

آیت اللہ سید یاسین موسوی نے عراق میں غیر ملکی مداخلت کو ملک کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ "کچھ حکام اپنے ہی عوام کو دھمکیاں دے رہے ہیں، جیسا کہ عراق کے وزیر خارجہ نے حالیہ دنوں میں کیا، جو ایک ناقابل قبول عمل ہے۔"

انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل خطے کی نئی تقسیم کے منصوبے پر عمل پیرا ہیں، جس کا تجربہ پہلے ہی سودان اور یمن میں کیا جا چکا ہے، اور اب عراق میں ایک علیحدہ کرد ریاست کے قیام کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

امام جمعہ بغداد نے کہا کہ امریکہ شیعہ قوتوں کو کمزور کرنے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد عراقی فوج اور حشد الشعبی (عوامی رضاکار فورس) کی طاقت کو محدود کرنا ہے، تاکہ عراق، فلسطینی اتھارٹی کی طرح، صرف اسرائیلی مفادات کا تحفظ کرنے والا ایک کمزور ادارہ بن کر رہ جائے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha