جمعرات 2 اپریل 2026 - 17:40
ایران کے دینی، علمی اور ثقافتی اداروں کا امریکی-صہیونی حملوں کے خلاف سخت بیان

حوزہ/ اسلامی جمہوریہ ایران کے بین الاقوامی دینی، علمی اور ثقافتی اداروں نے مدارس، یونیورسٹیوں، عبادت گاہوں، ثقافتی ورثے، بنیادی ڈھانچے اور بے گناہ شہریوں پر امریکی-صہیونی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے دنیا بھر کے علما، دانشوروں، اساتذہ، اہلِ قلم اور انصاف پسند لوگوں سے خاموشی توڑنے کی اپیل کی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تہران/ اسلامی جمہوریہ ایران کے متعدد بین الاقوامی دینی، علمی اور ثقافتی اداروں نے مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے ایران کے تعلیمی، تحقیقی، دینی اور ثقافتی مراکز پر جاری امریکی-صہیونی حملوں کو انسانیت، بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کے خلاف سنگین جرم قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مدارس، یونیورسٹیوں، عبادت گاہوں، اسپتالوں، رہائشی عمارتوں، ادویات کی تیاری و تقسیم کے مراکز، فلاحی اداروں، بنیادی ڈھانچے اور حتیٰ کہ تاریخی و ثقافتی آثار کو نشانہ بنانا کھلی جارحیت اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

بیان کے مطابق ان حملوں نے نہ صرف ایران کے سائنسی، تعلیمی اور مذہبی مراکز کو نشانہ بنایا بلکہ بے گناہ شہریوں، خواتین اور بچوں کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی برادری اور بالخصوص اسلامی ممالک کی جانب سے اس کھلی جارحیت کے مقابلے میں وہ مؤثر اور واضح ردعمل سامنے نہیں آیا جس کی توقع کی جا رہی تھی۔

ایرانی اداروں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ایک ماہ سے جاری ان حملوں کے باوجود دشمن اپنے کسی بھی اعلان کردہ مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا، بلکہ اسے مختلف محاذوں پر ناکامی اور شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی ناکامی کے بعد اب وہ بزدلانہ انداز میں عام شہری تنصیبات، تعلیمی اداروں، مذہبی مقامات اور قومی ورثے کو نشانہ بنا رہا ہے۔

بیان میں دنیا بھر کے علما، مختلف ادیان و مذاہب کے مذہبی رہنماؤں، یونیورسٹی اساتذہ، سیاسی شخصیات، قلمکاروں، صحافیوں، فنکاروں، قبائلی عمائدین، سوشل میڈیا کارکنوں اور تمام آزاد انسانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ ان “وحشیانہ حملوں” اور “ہولناک جنگی جرائم” کے خلاف دوٹوک اور شجاعانہ موقف اختیار کریں۔

بیان میں کہا گیا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ دنیا کے بااثر دانشور، بیدار ضمیر خطباء، میڈیا شخصیات اور انسانی اقدار پر یقین رکھنے والے تمام افراد ایران کے علمی و تحقیقی مراکز، مساجد، گرجا گھروں، بے گناہ شہریوں، بنیادی ڈھانچے اور تاریخی آثار پر ہونے والی بمباری کے خلاف اپنی آواز بلند کریں اور مختلف عالمی فورمز، کانفرنسوں اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس ظالمانہ جنگ کے مختلف پہلوؤں کو بے نقاب کریں۔

مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ عالمی سطح پر ایسی فضا ہموار کی جائے جس کے نتیجے میں امریکہ اور صہیونی حکومت کے ذمہ دار عناصر کو بین الاقوامی عدالتوں میں جنگی جرائم کے مجرم کے طور پر پیش کیا جا سکے۔

بیان کے اختتام پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی گئی کہ وہ حق و انصاف کی حمایت کرنے والوں کی کوششوں کو قبول فرمائے، ان کے قدموں کو استقامت عطا کرے اور دنیا کو ظالم قوتوں کی شکست اور حق کی کامیابی کا منظر دکھائے۔

یہ مشترکہ بیان ایران کی اہم دینی، علمی اور ثقافتی شخصیات و اداروں کی جانب سے جاری کیا گیا، جن میں آیت اللہ علیرضا اعرافی، محمد حسن اختری، محمد مہدی ایمانی پور، رضا رمضانی، حمید شہریاری، علی عباسی، سید عبدالفتاح نواب اور احمد واعظی شامل ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha