منگل 7 اپریل 2026 - 14:15
مذہبی اور تاریخی مقامات پر امریکی-صہیونی حملے وحشیانہ ذہنیت کا کھلا ثبوت ہیں: آیت اللہ اعرافی

حوزہ/ سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے دینی اور تاریخی مقامات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ تمام ادیان، انسانی اقدار اور مذہبی ورثے کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ حوزہ علمیہ ایران آیت اللہ علی رضا اعرافی نے امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے دینی اور تاریخی مقامات پر حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا صرف ایک فوجی کارروائی نہیں بلکہ تمام ادیان، انسانی اقدار اور مذہبی ورثے کے خلاف کھلی جارحیت ہے۔

اپنے ایک بیان میں آیت اللہ اعرافی نے کہا کہ حالیہ حملوں میں نہ صرف مذہبی مراکز، زیارت گاہیں، مساجد اور حسینیہ اعظم زنجان کو نشانہ بنایا گیا بلکہ یکم اپریل 2026 کو تہران میں واقع سینٹ نکولس آرتھوڈوکس چرچ پر بھی میزائل حملہ کیا گیا، جس سے چرچ اور اس سے متعلق تاریخی و مذہبی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ کھڑکیوں اور دروازوں کا ٹوٹ جانا، بزرگوں کی رہائش گاہ کے ایک حصے کا منہدم ہونا اور عبادت گاہ کی بے حرمتی، اس وحشیانہ ذہنیت کا ثبوت ہے جو تمام ادیان کی دشمن ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ مسجد، حسینیہ، چرچ، کنیسہ اور دیگر توحیدی ادیان کی عبادت گاہیں سرخ لکیر ہیں، اور ان پر حملہ انسانیت، مذہب اور تہذیبی ورثے کے خلاف جرم ہے۔

آیت اللہ اعرافی نے اقوام متحدہ، یونیسکو، ویٹیکن، عالمی کلیسائی اداروں اور دنیا بھر کے مذہبی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرح کی بے حرمتیوں پر خاموشی اختیار نہ کریں، کیونکہ اگر آج تہران میں مسجد یا چرچ کو نشانہ بنایا گیا اور دنیا خاموش رہی تو کل یہ خطرہ کسی اور ملک اور کسی اور عبادت گاہ تک پہنچ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ استکباری طاقتیں اور صہیونی حکومت صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ ہر خدا پر ایمان رکھنے والے انسان کی دشمن ہیں، اس لیے تمام ادیان کے ماننے والوں کا متحد ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

بیان کے آخر میں آیت اللہ اعرافی نے ایران اور دنیا بھر کے مسیحیوں، بالخصوص آرتھوڈوکس برادری سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ظالم طاقتوں کے خاتمے کی دعا کی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha