حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرحوم علامہ مصباح یزدی نے اپنے ایک درس اخلاق میں "انسانی غیرت، جذبات اور دور اندیشی" کے موضوع کا ذکر کیا ہے، جو قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔
بعض اوقات انسان اپنی جلد میں رہتا ہے، لیکن اس کی روح مختلف قسم کی ہوتی ہے؛ اس کا چہرہ جانا پہچانا ہے، لیکن اندر سے وہ اس دشمن سے مشابہت رکھتا ہے جس سے وہ کبھی نفرت کرتا تھا۔
بعض مسلمان ظاہری طور پر انسان ہیں، لیکن اندر سے بندر ہیں؛ ایسے انسان مسخ شدہ اور انسانیت سے عاری ہیں، ان کے پاس اب انسانی عقل اور شعور نہیں ہے، ان میں انسانی غیرت نہیں ہے، ان میں انسانی احساسات و جذبات نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں انسانی دور اندیشی ہے۔
ان کے تمام انسانی فضائل ختم ہو چکے ہیں؛ وہ اب اداکار، چالباز اور دھوکے باز ہیں، یا جسے وہ " سیاستدان" کہتے ہیں۔
ایک حقیقی مسلمان اپنی ناموس کے مقابلے میں غیرت مند ہوتا ہے؛ اسے اپنے دشمن کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ اگر انسان ایک یا دو بار اپنے دشمن کو نہ پہچان سکے اور اس سے زخم کھائے تو وہ آخر کار سمجھ جائے گا کہ اس کا دشمن کیسا ہے۔
ایک حقیقی انسان اور مسلمان کو اپنے لوگوں، اپنے خاندان، اپنی قوم اور اپنے قومی اور مذہبی جذبات سے ایسی محبت و الفت ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا جس سے ان کے مفادات پر آنچ آئے۔
کبھی بھی کوئی بھی اپنے پورے خاندان، قبیلے اور قوم کو محض اس کے لیے اسیر کرنے کے لیے تیار نہیں ہوگا؛ تاکہ وہ خود آرام سے بیٹھ سکے۔ کوئی بھی عاقل انسان ایسا کام کرے گا؟!









آپ کا تبصرہ