منگل 7 اپریل 2026 - 14:19
استنبول میں ایران اور محاذِ مقاومت کے حق میں بڑا مظاہرہ

حوزہ/ ترکیہ کے شہر استنبول میں ایران، لبنان اور فلسطین کی حمایت میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ و صہیونی رژیم اسرائیل کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اسلامی وحدت، مسلم اقوام کے باہمی اتحاد اور خطے کے مظلوم عوام کی حمایت پر زور دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ کے شہر استنبول میں ایران، لبنان اور فلسطین کی حمایت میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ و صہیونی رژیم اسرائیل کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اسلامی وحدت، مسلم اقوام کے باہمی اتحاد اور خطے کے مظلوم عوام کی حمایت پر زور دیا۔

انجمن نوجوانانِ اناطولیہ (AGD) کے ارکان اور حامیوں کی بڑی تعداد مسجد فاتح میں نمازِ عشاء کے بعد جمع ہوئی۔ شرکاء نے مسجد کے صحن میں اجتماع کے بعد ایران کے پرچم اٹھا کر فوزی پاشا اسٹریٹ سے سراج خانہ پارک تک مارچ کیا۔ اس دوران امریکہ اور صہیونی اسرائیل کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی، جبکہ پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔

اجتماع کے دوران تلاوتِ قرآن کریم کے بعد انجمن نوجوانانِ اناطولیہ کے سربراہ صالح تورہان نے خطاب کرتے ہوئے امریکہ اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے لبنان اور فلسطین پر حملوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج امتِ مسلمہ کے اتحاد کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

صالح تورہان نے کہا کہ “ہم صہیونی اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے مقابلے میں ایران کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم لبنان اور فلسطین کے ساتھ ہیں، اور ہم تمام مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔” انہوں نے کہا کہ مسئلہ صرف کسی ایک ملک پر حملہ نہیں بلکہ ایک وسیع صہیونی منصوبہ ہے، جس کے تحت پورے خطے پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مسجد الاقصیٰ میں عبادت پر عائد رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے مقدسات کی بے حرمتی پوری امت کے لیے باعثِ درد ہونی چاہیے۔ ان کے بقول ایسے مواقع پر میدان میں موجود رہنا کوئی سیاسی انتخاب نہیں بلکہ ایک ایمانی ذمہ داری ہے۔

تقریب کے اختتام پر مظاہرین نے ایران اور دیگر مسلم ممالک کے حق میں نعرے لگائے اور مسلم دنیا کے اتحاد کے مطالبے کے ساتھ احتجاجی اجتماع ختم ہوگیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha