جمعرات 11 جون 2026 - 13:20
اردوغان کا اسرائیل پر شدید حملہ، نیتن یاہو کو ہٹلر سے تشبیہ

حوزہ/ ترکیہ کے صدر طیب اردوغان نے اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے نیتن یاہو کو ہٹلر سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی تشکیل کے بعد سے خطے کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ترکیہ کے صدر طیب اردوغان نے اسرائیل کی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے نیتن یاہو کو ہٹلر سے تشبیہ دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی تشکیل کے بعد سے خطے کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے مسلسل خطرہ بنا ہوا ہے اور فلسطینیوں کے خلاف ظلم و ستم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

ترک صدر نے ایک خطاب میں کہا کہ غزہ سے لے کر لبنان تک مظلوم عوام کی درد بھری صدائیں آج بھی سنائی دے رہی ہیں۔ ان کے بقول اسرائیل فلسطینی سرزمین پر قبضے اور فلسطینی عوام کے خلاف منظم کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ غزہ میں ہزاروں بے گناہ افراد جان سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اسرائیل نہ صرف غزہ بلکہ لبنان اور دیگر علاقائی ممالک میں بھی کشیدگی کو ہوا دے رہا ہے۔

اردوغان نے کہا کہ اسرائیل نے لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور علاقائی ممالک کے احتجاج کے باوجود وہاں سے انخلا نہیں کیا۔ ان کے مطابق لبنان میں جاری حملوں کے نتیجے میں ہزاروں افراد جاں بحق اور زخمی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کو ’’بحرانوں کا مرکز‘‘ اور ’’فتنہ پیدا کرنے والی فیکٹری‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت پورے خطے میں عدم استحکام کو فروغ دے رہی ہے۔

ترک صدر نے عالمی برادری کی خاموشی پر بھی شدید تنقید کی اور کہا کہ موجودہ اسرائیلی حکومت کی پالیسیوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری انسانیت کو خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شام اور لبنان کے خلاف اسرائیلی اقدامات بالآخر ترکیہ کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔

اردوغان نے زور دے کر کہا کہ شام اور لبنان ترکیہ کے قریبی اور برادر ممالک ہیں اور ان کی سلامتی ترکیہ کی سلامتی سے جڑی ہوئی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ انقرہ اپنے اتحادی اور برادر ممالک کے خلاف کسی بھی جارحیت پر خاموش نہیں رہے گا اور ترکیہ اور قبرصی ترکوں کے حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

اپنے خطاب کے اختتام پر ترک صدر نے کہا کہ جس طرح دوسری جنگِ عظیم سے قبل ہٹلر کے جرائم پر خاموشی نے دنیا کو تباہی سے دوچار کیا تھا، اسی طرح آج نیتن یاہو کی پالیسیوں پر عالمی خاموشی خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو بین الاقوامی قوانین کا پابند بنانے کو پوری انسانیت کی مشترکہ ذمہ داری قرار دیتے ہوئے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن اور استحکام کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا اور غزہ و لبنان کے عوام کے ساتھ اپنی حمایت برقرار رکھے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha