منگل 7 اپریل 2026 - 14:08
ہم ٹرمپ کی افراتفری والی پالیسیوں کا حصہ نہیں: آسٹریا

حوزہ/آسٹریا کے صدرِ اعظم کے معاون نے اپنی ایک تقریر میں اس بات پر زور دیا ہے کہ آسٹریا ٹرمپ کی افراتفری اور غیر معقول پالیسیوں کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آسٹریا کے صدرِ اعظم کے معاون بیبلر نے کہا ہے کہ آسٹریا کی فضائی حدود سے امریکی فوجی طیاروں کی پروازوں کے بارے میں، ہماری ایک واضح اور روشن پالیسی ہونی چاہیے۔ ہماری غیر جانبداری، غیر قابلِ مذاکرات ہے اور خاص طور پر موجودہ حالات میں اس کی مسلسل رعایت کی جانی چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورتحال میں پروازوں کے ان راستوں کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے جو براہِ راست تنازعات والے علاقوں میں داخل نہیں ہوتے، لیکن فوجی کاروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔

واضح رہے یہ مؤقف ایران کے خلاف امریکہ اسرائیل جنگ کے دوسرے مہینے میں اپنایا گیا ہے۔

یاد رہے ایران نے اسرائیل، اردن، عراق اور خلیج فارس کے ممالک میں امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے اہداف پر ڈرون اور میزائل حملوں سے جواب دیا ہے۔

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جہاں ٹرمپ نے یورپ میں امریکی نیٹو اتحادیوں سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور تعاون کے لیے بحری افواج بھیجنے کا مطالبہ کیا ہے، وہیں کئی اہم ارکان نے اسٹریٹجک اختلافات کا حوالہ دیتے ہوئے شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے، جن میں اتحادیوں کا مقصد بھی شامل ہے، جو اس کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha