حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران سفارتی اور میڈیا محاذ پر ایران نے نمایاں کامیابی حاصل کی، جبکہ امریکی حکام نے بھی اعتراف کیا کہ عوامی سفارت کاری میں ایرانی سفارت خانوں نے بہتر کارکردگی دکھائی۔
عباس عراقچی نے کہا کہ چالیس روزہ جنگ کے دوران ایران کے کسی سفارت کار یا وزارت خارجہ کے اہلکار نے استعفیٰ نہیں دیا، حالانکہ مخالفین اس طرح کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی سفارت خانوں نے میڈیا اور عوامی سفارت کاری کی جنگ میں مؤثر کردار ادا کیا۔
ادھر امریکہ میں ایران کے خلاف جنگی اختیارات محدود کرنے کے معاملے پر سیاسی کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد منظور ہونے کے بعد یہ بل ایوانِ نمائندگان میں پیش ہونا تھا، تاہم ریپبلکن قیادت نے مبینہ طور پر ایوان کی کارروائی کو کورم سے محروم کرکے ووٹنگ روک دی۔
ڈیموکریٹ رکن اولشفسکی نے الزام لگایا کہ ریپبلکن اراکین شکست کے خوف سے ایوان سے نکل گئے۔ ان کے بقول، اس جنگ نے امریکی معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان پہنچایا جبکہ امریکی فوجی بھی اس کے اثرات بھگت رہے ہیں۔
امریکی سینیٹر رافائل وارنک نے بھی ٹرمپ کی ایران پالیسی کو “انتہائی ناکام جنگ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ نے اس غیر قانونی جنگ کو روکنے کی جانب اہم قدم اٹھایا ہے اور وہ صدر کو جوابدہ بنکانے کی کوشش جاری رکھیں گے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بھی جنگی نقصانات اور سیاسی اختلافات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے بلومبرگ کے مطابق، ایران نے جنگ کے آغاز سے اب تک امریکہ کے 24 سے 30 جدید MQ-9 ریپر ڈرون تباہ کیے، جن کی مجموعی مالیت تقریباً ایک ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تعداد امریکہ کے ان ڈرونز کے جنگ سے پہلے موجود ذخیرے کا تقریباً بیس فیصد ہے۔
فرانسیسی حکومت نے بھی آبنائے ہرمز میں نیٹو کے ممکنہ کردار کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو کا دائرۂ کار شمالی بحرِ اوقیانوس تک محدود ہے اور مشرق وسطیٰ میں ایسی مداخلت مناسب نہیں ہوگی۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیٹو ممالک آبنائے ہرمز میں بحری مشن کے امکان پر غور کر رہے ہیں۔
اسرائیلی اخبار “جروزلم پوسٹ” نے رپورٹ دی ہے کہ جنگ کے باعث اسرائیل میں نفسیاتی مسائل میں 240 فیصد اضافہ ہوا ہے اور بڑی تعداد میں لوگ ذہنی دباؤ اور جنگی صدمات کے علاج کے لیے رجوع کر رہے ہیں۔
ادھر خبر رساں ادارے رائٹرز نے انکشاف کیا ہے کہ جنیوا مذاکرات کے دوران یورپی حکام امریکی ٹیم کی جوہری معاملات سے متعلق کم معلومات پر حیران رہ گئے۔ رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے تجربہ کار جوہری ماہرین کو نظر انداز کرکے وفادار سیاسی شخصیات پر انحصار کیا، جس کے باعث امریکی وفد کو یورینیم افزودگی جیسے بنیادی موضوعات بھی سمجھانے پڑے۔
دریں اثنا سپاہ پاسداران کی بحریہ نے اعلان کیا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 35 تیل بردار، تجارتی اور کنٹینر بردار جہاز ایران کی نگرانی اور سکیورٹی میں آبنائے ہرمز سے گزرے۔ ایرانی حکام کے مطابق جہازوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی بحری برادری کا اعتماد آہستہ آہستہ اس اہم آبی گزرگاہ میں بحال ہو رہا ہے۔









آپ کا تبصرہ