حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دو ہفتوں کی جنگ بندی اپنے اختتام کے قریب ہے، لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات شدید تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق اس کی بنیادی وجہ امریکی وعدہ خلافی اور سمندری محاصرہ ہے، جس نے صورتحال کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ کسی بھی مذاکرات کے لیے اعتماد ضروری ہوتا ہے، لیکن امریکہ کے حالیہ اقدامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دباؤ ڈال کر ایران کو جھکانا چاہتا ہے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ایرانی عوام کسی بھی قسم کی زبردستی قبول نہیں کریں گے۔
ایرانی قومی سلامتی اداروں نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے اور اب “بلا روک ٹوک آمد و رفت” ممکن نہیں رہی۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ جب تک اس کے مفادات کا تحفظ نہیں ہوتا، وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
ادھر پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی بحالی کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اطلاعات کے مطابق ایرانی وفد اس وقت تک شرکت نہیں کرے گا جب تک سمندری محاصرہ ختم نہیں ہوتا۔
اس دوران اسرائیل میں اندرونی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ تل ابیب، حیفا اور مقبوضہ بیت المقدس میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم نتن یاہو کے خلاف مظاہرے کرتے ہوئے ان سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے، جو مسلسل جنگی حالات سے پیدا ہونے والی تھکن اور بے چینی کو ظاہر کرتا ہے۔
یمن کی انصار اللہ تحریک کے رہنما حسین العزی نے بھی سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر باب المندب بند کیا گیا تو اسے کھولنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
امریکی سیاست میں بھی اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔ سابق نائب صدر کملا ہیرس نے الزام لگایا ہے کہ ٹرمپ کو اس جنگ میں دھکیلا گیا، جبکہ دیگر تجزیہ کار بھی امریکی پالیسی پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
معاشی صورتحال بھی تیزی سے متاثر ہو رہی ہے۔ خلیجی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش نے عالمی تیل سپلائی کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ چکی ہیں اور بعض اندازوں کے مطابق فی بیرل قیمت 150 ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔
ان تمام حالات کے درمیان انسانی نقصان انتہائی سنگین ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں 3,375 افراد شہید ہوئے، جن میں 2,875 مرد اور 496 خواتین شامل ہیں۔ عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو معصوم بچوں سے لے کر بزرگوں تک ہر طبقہ اس جنگ کا نشانہ بنا ہے، جو اس تنازع کی شدت کو واضح کرتا ہے۔
مجموعی طور پر صورتحال یہ بتاتی ہے کہ جنگ بندی کے باوجود حالات نہایت نازک ہیں۔ اگر مذاکرات بحال نہ ہوئے تو ایک بار پھر جنگ بھڑکنے کا خطرہ موجود ہے، جس کے اثرات پورے خطے اور دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ