حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ ہائے علمیہ ایران کے سربراہ آیت الله اعرافی نے عالم اسلام کے علماء کے نام ایک خط میں لکھا ہے: اس خط میں سب سے پہلے آپ، ملت اسلامیہ کے علماء اور مصلحین کو مخاطب کیا گیا ہے؛ تاکہ مشترکہ اسلامی اصولوں یعنی انسانی جان کی حرمت، جارحیت کی قباحت، معاہدوں کی پاسداری اور مکالمے کی صداقت کا دفاع کرکے اسلامی سرزمین کو مسلسل جنگی میدان میں تبدیل ہونے سے بچایا جاسکے۔
خط کا متن حسب ذیل ہے:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
عالم اسلام کے معزز علماء اور مصلحین!
السّلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
قال الله تعالی: إِنَّمَا یَخْشَی اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ.
تاریخ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ امت اسلامیہ کی زندگی کے مشکل ترین، تاریک ترین اور نازک ترین ادوار میں کوئی بھی طاقت امت مسلمہ کو مایوسی اور اضطراب سے نکال کر تبدیلی، ترقی اور خوشحالی کی طرف اس قدر رہنمائی نہیں دے سکی جتنی دین کے حقیقی علمائے کرام نے کی۔ ایسے علماء جنہوں نے جرأت، قرآنی تفکر، انسان اور زمانے کے بارے میں علم اور خدا اور انسانیت کے سامنے ذمہ داری سے بھرپور جذبے کے ساتھ، ہر سرزمین اور ہر حال میں خود کو ایک بلند پرچم کی طرح قرار دے کر راستہ دکھایا ہے۔ اُنہوں نے روشن چراغ کی طرح راستہ روشن کیا ہے اور کبھی زندگی کی کشتی کی طرح معاشرے کی ہنگامہ خیز موجوں میں گم ہونے والوں کو محفوظ ساحل تک پہنچا دیا ہے۔
آج عالم اسلام بھی اپنی عصری تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور پر آشوب دور سے گزر رہا ہے۔ ایک طرف ملت اسلامیہ کے لیے وقار، آزادی اور تہذیبی خوشحالی کی طرف لوٹنے کے بے مثال مواقع کھلے ہیں اور دوسری طرف اس متحد جسم کے سائے میں گہرے خطرات اور بحران چھائے ہوئے ہیں۔ ایسے حساس حالات میں ایسا لگتا ہے کہ ملت اسلامیہ کی بیداری، بصیرت اور جرأت اور قوم کو اس دور کے کٹھن راستوں سے گزرنے والا کوئی بھی عنصر مستقبل کی راہیں روشن نہیں کر سکتا۔
انسانیت کی تقدیر، معاشروں کی سلامتی اور سکون اور علم، ثقافت اور مذہب کی نشوونما کے لیے آزاد اور محفوظ جگہ کی فراہمی ہمیشہ سے علمائے دین کی توجہ کا مرکز رہی ہے۔ قرآن مجید کی منطق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام اور اولیاء اللہ کی زندگی میں اسلام کا جوہر امن، سلامتی اور انسانی عزت کے تحفظ پر مبنی ہے۔ ایک ایسا امن جو کمزوری سے نہیں، بلکہ دانشمندی، انصاف اور انسانی برادری کی تقدیر کی ذمہ داری کے مقام سے تشکیل پاتا ہے۔
اسلامی تاریخ کا تجربہ بھی بتاتا ہے کہ جب بھی علمائے کرام نے یکجہتی اور تعمیری بات چیت کی ہے، عالم اسلام کی ترقی اور قوموں کے درمیان بغیر تفرقہ کے تعلقات کی تشکیل کے لیے زمینہ زیادہ فراہم کیا ہے۔ اس کے برعکس جب بھی علماء کی صفیں منقسم ہوئی ہیں اور تنگ نظر مذہبی یا فرقہ وارانہ رجحانات نے اسلامی معاشرے کے وسیع نظریات پر سایہ ڈالا ہے، وسیع پیمانے پر فتنہ و فساد کی بنیاد تیار کی گئی ہے۔ جیسا کہ بعض اوقات علماء نے ایک دوسرے کو کسی ایک مذہب کے افق میں دیکھنے کے بجائے ذیلی زمروں کی عینک سے ایک دوسرے کا تجزیہ کیا ہے اور غیر ارادی طور پر خلا کو گہرا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔
تاریخ اسلام اس بات کی گواہ ہے کہ تمام اسلامی فرقوں کے علمائے کرام نے امت کی یکجہتی کے تحفظ میں بے مثال کردار ادا کیا ہے۔ یہ کردار نہ تو کسی مخصوص مذہب تک محدود ہے اور نہ ہی کسی مخصوص جغرافیہ تک؛ بلکہ اس کی جڑیں ایک مشترکہ سچائی میں پیوست ہیں: ایک خدا اور آخری نبی پر ایمان کی روشنی میں ہم آہنگی اور ہمدردی کی طرف رجحان۔
اس کے ساتھ ساتھ پوری تاریخ میں علمائے کرام کے تعلقات کو سیاسی رنگ دینے اور انہیں اقتدار کے مقابلوں کے میدان میں گھسیٹنے کی کئی کوششیں کی گئیں۔ اگرچہ ان کوششوں نے ملت اسلامیہ کے حالات کو بعض اوقات تاریخ کے نازک موڑ پر پیچیدہ بنا دیا ہے، لیکن یہ وہی علمائے کرام ہیں جنہوں نے اپنی بصیرت اور تاریخی ذمہ داری کے احساس سے بڑے تباہی کو روکا ہے۔
بلاشبہ اسلامی معاشروں کی تقدیر کسی بھی دوسرے عنصر سے زیادہ اس بات پر منحصر ہے کہ علمائے اسلام کس طرح ایک دوسرے سے اور معاشرے کے ساتھ تعامل کرتے ہیں۔ اگر یہ تعامل حکمت اور تہذیبی نقطۂ نظر پر مبنی ہو تو امید اور ہم آہنگی کے نئے افق کھلیں گے اور اگر خدا ناخواستہ یہ غلط فہمیوں اور بیرونی اشتعال انگیزیوں کے سائے میں ٹوٹ جائے تو بڑی مداخلتوں اور بحرانوں کے لیے راستہ ہموار ہو جائے گا۔
آج عالم اسلام کے دشمنوں کی معروف حکمت عملیوں میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان علماء کو تنگ مذہبی حدود میں رکھا جائے اور فرقہ وارانہ حساسیت کو اجاگر کرکے امت کے جذبے کو کمزور کیا جائے۔ وہ (دشمن) بخوبی جانتے ہیں کہ اگر مسلمانانِ عالم، عالم اسلام کے بلند افق سے مسائل کو دیکھیں تو وہ انسانیت اور امت اسلامیہ کے حقیقی دشمنوں کی صحیح شناخت کر سکتے ہیں اور یہ بالکل وہی بات ہے جو انہیں قابلِ قبول نہیں ہے۔
شاید، جنگ کی آگ اور دھماکوں کی تباہی کے درمیان جب میناب میں اسکول کی طالبات کی نازک لاشیں مٹی اور خون میں لت پت ہو رہی ہوں، انقلابِ اسلامی ایران کی تاریخ پر توجہ دینا پہلی نظر میں مناسب نہ لگے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس انقلاب کی نوعیت پر توجہ دئیے بغیر آج کے بہت سے واقعات کو سمجھنا ناممکن ہے۔
انقلابِ اسلامی ایران، جیسا کہ مشرق اور مغرب کے بہت سے ممتاز سماجی مفکرین اس بات کی گواہی دیتے ہیں، خالصتاً سیاسی رجحان یا کسی خاص مذہب تک محدود نہیں تھا؛ بلکہ یہ ایک انسانی اسلامی واقعہ ہے جس کا افق نسلی اور فرقے کی حدود سے بالاتر ہے۔ اس انقلاب نے ایک بار پھر عصری دنیا میں مذہب، وقار، آزادی اور ترقی کے امتزاج کے امکان کو ظاہر کرنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کو یہ یاد دلانے کی کوشش کی کہ دینی شناخت اور انسانی وقار پر اصرار کرتے ہوئے تسلط کے نظام کا مقابلہ کرنا ممکن ہے۔
گزشتہ چار دہائیوں میں، اسلامی جمہوریہ ایران نے نہ تو کوئی جنگ شروع کی ہے اور نہ ہی اس نے کسی ملک کے ساتھ فوجی تنازع شروع کیا ہے؛ اگرچہ اس پر کئی جنگیں مسلط کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں جو چیز اہم ہے وہ ایرانی سیاست پر حکمرانی کرنے والی منطق ہے: جنگ سے بچنے کی مسلسل کوشش اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دینا۔
انقلاب کے ابتدائی سالوں میں ایران پر آٹھ سالہ جنگ مسلط کر دی گئی؛ ایک ایسی جنگ جو نومولود اسلامی جمہوریہ کو مستحکم کرنے کے مشکل ترین دنوں میں شروع ہوئی۔ اس دوران بعض علاقائی ممالک اور عالمی طاقتوں نے مالی، جنگی سازو سامان اور سیاسی مدد کے ساتھ ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور اس جنگ کے نتیجے میں دونوں مسلم ممالک کو بڑے پیمانے پر انسانی اور مادی نقصان اٹھانا پڑا۔
تاہم جنگ کے خاتمے کے بعد ایران نے بدلہ لینے یا بھاری معاوضے کا مطالبہ کرنے کے بجائے عقلیت اور عالم اسلام کے حالات کے بارے میں مشترکہ فہم کی امید رکھتے ہوئے اپنے بہت سے مطالبات کو ترک کر دیا اور تحمل اور برداشت کا راستہ اختیار کیا۔
اس نقطۂ نظر کے باوجود، اگلے برسوں میں، اسلامی دنیا کی رائے عامہ میں ایران کے چہرے کو مسخ کرنے کی وسیع کوششیں کی گئیں۔ تکفیر اور تہمت کا بازار گرم کیا گیا اور بعض صورتوں میں صیہونی حکومت اور امریکہ کے ساتھ خطے میں اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے تعاون کیا گیا۔ اسی عمل میں خطے کے کچھ حصے صیہونی حکومت کے ساتھ تزویراتی ہم آہنگی کا علاقہ بن گئے اور ایران کی جنوبی سرحدوں کے قریب امریکی فوجی اڈے وسیع پیمانے پر بڑھ گئے۔
آخر کار، حالیہ مہینوں میں، اس عمل میں ایک نیا مرحلہ آیا ہے۔ ایرانی قوم اور حکومت کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی بعض دوسری حکومتوں کے تعاون سے مسلط کردہ جنگ اور کھلی جارحیت کو تقریباً ایک مہینہ ہو چکا ہے۔ ان حملوں کے دوران ہزاروں بے گناہ مرد، عورتیں اور بچے شہید ہوئے اور ان کے علاوہ متعدد کمانڈر، حکام بشمول مرجع تقلید اور اسلامی جمہوریہ ایران کے رہبر اعلیٰ حضرت آیت الله سید علی خامنہ ای بھی شہید ہوئے۔
ان حملوں میں ساٹھ ہزار سے زائد رہائشی عمارتوں اور سینکڑوں سائنسی، طبی اور سماجی مراکز، درجنوں کارخانے اور ملک کے توانائی، صنعتی اور مواصلاتی ڈھانچے کے کچھ حصوں کو نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا۔ تباہی کا یہ حجم صرف ایک محدود فوجی کاروائی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسی جنگ کی واضح مثال تھی جس کی انسانی اور تہذیبی جہت پورے خطے کو متاثر کرتی ہے۔
جو چیز اس واقعہ کو پیچیدہ بناتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب اسلامی جمہوریہ ایران دوسری مرتبہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی راہ پر گامزن تھا۔ اس طرح مذاکرات کے بیچ میں ہی مذاکرات کی میز میزائلوں اور بموں سے ٹوٹ گئی؛ ایک ایسا عمل جو درحقیقت نہ صرف ایک ملک کو نشانہ بناتا ہے، بلکہ بین الاقوامی تعلقات میں بات چیت اور اعتماد کے اصول کو بھی نشانہ بناتا ہے۔
ایسے موقع پر افسوسناک امر یہ ہے کہ بعض حکومتوں نے ہمسایہ ہونے اور اسلامی بھائی چارے کا دعویٰ کرنے کے باوجود اپنی زمین، آسمان اور علاقائی پانیوں کو ان قوتوں کے ہاتھ میں دے دیا جنہوں نے یہ حملہ کیا۔ تاہم، اسلامی جمہوریہ ایران نے اعلان کیا کہ وہ خطے کے ممالک کو اپنا بھائی اور ہمسایہ سمجھتا ہے اور صرف ان اڈوں کو اپنے ردعمل کا نشانہ بنائے گا جہاں سے ایران کے خلاف فوجی کاروائیاں کی جاتی ہیں۔ ایک جواب جس کی وضاحت اپنے دفاع کے حق کے فریم ورک کے اندر کی گئی ہے۔
آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض ایک نظامی جنگ نہیں ہے؛ بلکہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو عالم اسلام کے مستقبل اور اقوام کے درمیان تعلقات کی اخلاقی بنیاد کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ اگر بین الاقوامی نظام میں یہ قاعدہ قائم ہو جائے کہ مذاکرات کے درمیان کسی ملک پر حملہ کیا جا سکتا ہے تو کوئی بھی آزاد قوم کبھی بھی اعتماد کے ساتھ مذاکرات کی میز پر نہیں بیٹھے گی۔
ایسے حالات میں عالم اسلام کے علمائے کرام کے کردار کی اہمیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ پوری تاریخ میں وہ قوم کے اخلاقی ضمیر کے محافظ رہے ہیں اور بڑے موڑ پر اپنے واضح الفاظ سے بہت سے بحرانوں کا رخ بدلنے میں کامیاب رہے ہیں۔
آج بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا دنیائے اسلام ان رجحانات سے لاتعلق رہ سکتی ہے جو مسلم اقوام کی آزادی کو کمزور کرنے کا باعث بنتے ہیں؟ کیا ہم اسلامی سرزمین کو عالمی طاقتوں کے درمیان مقابلے کے میدان میں تبدیل کرنے پر خاموش رہ سکتے ہیں؟
بلا شبہ، قرآنِ کریم مسلمانوں کو عزت، اتحاد اور کمزوری سے بچنے کی دعوت دیتا ہے: وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ. اس قرآنی پیغام کو درک کرنے کے لیے پہلے سے کئی گنا زیادہ مسلم علماء کی بصیرت، ہمت اور اتحاد کی ضرورت زیادہ ہے۔
اسی بنا پر، اس خط کے سب سے پہلے مخاطب امت اسلامیہ کے علماء اور مصلحین ہیں؛ تاکہ مشترکہ اسلامی اصولوں یعنی انسانی جان کی حرمت، جارحیت کی قباحت، معاہدوں کی پاسداری اور مکالمے کی صداقت کا دفاع کرتے ہوئے اسلامی سرزمین کو مسلسل جنگی میدان بننے سے بچایا جا سکے۔
یقیناً تاریخ ان مشکل دنوں میں ہم سب کی رفتار اور مؤقف کا فیصلہ کرے گی۔ آنے والی نسلیں پوچھیں گی کہ اس نازک موڑ پر دینی علماء نے کیا کیا؟ کیا انہوں نے معمولی اختلافات کو ہوا دیا یا وہ امت اسلامیہ کے وقار کے تحفظ کے لیے میدان میں آئے؟
امید ہے کہ علمائے اسلام کی حکمت اور یکجہتی کی آواز ایک بار پھر گونجے گی اور ایک ایسا راستہ کھلے گا جس میں جنگ کی جگہ مکالمہ اور اختلاف کی جگہ ہم آہنگی لے گی۔
آخر میں اس امید کے ساتھ کہ علمائے اسلام کی ذمہ دار آواز امت اسلامیہ کے لیے ایک نیا افق کھولے گی، ہم آپ سب کی طرف اخوت اور مکالمے کا ہاتھ بڑھاتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ مشترکہ سوچ اور ہمدردی کی روشنی میں انسانی مشکلات کو کم کرنے، قوموں کی سلامتی کے تحفظ اور عالم اسلام کے وقار کو مستحکم کرنے کی طرف ایک قدم اٹھایا جائے گا۔
والسّلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ









آپ کا تبصرہ