جمعہ 24 اپریل 2026 - 19:47
کتاب سے رشتہ: ایک سادہ مگر ضروری بات

حوزہ/ کتاب کو زندگی سے نکالیں نہیں، اسے ساتھ رکھیں۔ کیونکہ بعض اوقات جو بات کوئی انسان نہیں سمجھا پاتا، وہ ایک اچھی کتاب بڑی آسانی سے سمجھا دیتی ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی I ۲۳ اپریل آتا ہے تو یاد آتا ہے کہ ہماری زندگی میں کتاب کا حصہ کتنا رہ گیا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا تھا کہ گھر میں کوئی نہ کوئی کتاب کھلی رہتی تھی—کسی کے ہاتھ میں، کسی کے تکیے کے پاس، یا کسی الماری میں سنبھال کر رکھی ہوئی۔ آج بھی کتاب موجود ہے، مگر شاید ہمارے معمول سے تھوڑی دور ہو گئی ہے۔ یومِ کتاب اسی بھولی ہوئی قربت کو یاد دلانے کا دن ہے۔

کتاب کی بات میں کوئی بناوٹ نہیں ہوتی۔ یہ نہ شور مچاتی ہے، نہ جلدی کرواتی ہے۔ بس اپنے وقت پر ساتھ دیتی ہے۔ جب آدمی تھکا ہوا ہو، الجھا ہوا ہو یا کچھ سمجھ نہ آ رہا ہو، تو ایک اچھی کتاب آہستہ سے ہاتھ تھام لیتی ہے۔ کبھی کوئی سادہ سا جملہ دل کو لگ جاتا ہے، کبھی کوئی خیال دیر تک ساتھ چلتا ہے۔ یہی اس کی خوبی ہے—کم بول کر بھی بہت کچھ کہہ دینا۔

ہم سب کے ساتھ ایسا ہوا ہے کہ کسی کتاب کا ایک صفحہ، ایک بات، یا ایک واقعہ ذہن میں ٹھہر گیا ہو۔ برسوں بعد بھی یاد آ جائے تو لگتا ہے جیسے وہ لمحہ ابھی گزرا ہو۔ یہی کتاب کی اصل تاثیر ہے۔ وہ انسان کو بدلنے کی جلدی نہیں کرتی، مگر خاموشی سے اس کے اندر جگہ بنا لیتی ہے۔

آج کی تیز رفتار زندگی میں شاید ہمیں یہی ٹھہراؤ کم ملتا ہے۔ ہر چیز جلدی میں ہے، ہر خبر فوری ہے، مگر سمجھنے کا وقت کم ہوتا جا رہا ہے۔ کتاب اس کمی کو پورا کرتی ہے۔ وہ ہمیں رک کر پڑھنے اور سوچنے کا موقع دیتی ہے۔ یہ عادت چھوٹی لگتی ہے، مگر اثر بڑا چھوڑتی ہے۔

یومِ کتاب کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بڑے بڑے وعدے کریں۔ بس اتنا کافی ہے کہ ہم دوبارہ کتاب کی طرف لوٹ آئیں۔ روز تھوڑا سا پڑھ لیں، دل لگا کر پڑھ لیں۔ اپنے بچوں کو کہانی سنانے لگیں، یا خود ہی کسی خاموش وقت میں چند صفحے پڑھ لیں۔ آہستہ آہستہ یہی معمول بن جاتا ہے، اور پھر زندگی میں ایک نرمی، ایک سلیقہ آ جاتا ہے۔

آخر میں بات سادہ سی ہے: کتاب کو زندگی سے نکالیں نہیں، اسے ساتھ رکھیں۔ کیونکہ بعض اوقات جو بات کوئی انسان نہیں سمجھا پاتا، وہ ایک اچھی کتاب بڑی آسانی سے سمجھا دیتی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha