حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے علامہ محمد اقبال کے 88 ویں یومِ وفات پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ اقبال کا فلسفۂ خودی، پیام اتحاد امت اور پیغامِ محبت رسول ۖ و آل رسول مشعلِ راہ ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ افسوس علامہ اقبال نے جس پاکستان کا خواب دیکھا تھا وہ آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ ملک میں آئین کی حقیقی بالا دستی اور حکمرانی یقینی بنانا ہوگی۔
علامہ سید ساجد نقوی نے کہا کہ فلسفۂ اقبال پر عمل ہوتا تو آج ملک میں امن و امان سمیت سیاسی و سماجی، معاشی و معاشرتی لحاظ سے حالات یکسر مختلف ہوتے۔
علامہ سید ساجد نقوی نے شاعر مشرق حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے 88 ویں یوم وفات پر اپنے پیغام میں کہا کہ آج کی داخلی و خارجی صورت حال میں فلسفۂ اقبال سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔ امت مسلمہ کی زبوں حالی اور مغرب کی جانب سے یلغار نے مختلف تہذیبوں، ثقافتوں اور معاشروں کو بھی تباہ کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورت حال میں جب تک امت مسلمہ ایک نہیں ہوگی اس وقت تک اسلامی دنیا مختلف مسائل اور چیلنجز کا سامنا کرتی رہے گی اگر امہ ڈاکٹر اقبال کے فلسفے ''ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے، نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاک کاشغر، پر عمل کرتی تو مغربی قوتوں کو توہین اسلام اور ناموس رسالت ۖ پر حملوں کا منہ توڑ جواب دے سکتی ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ علامہ محمد اقبال نے جس اسلامی، جمہوری، فلاحی اور ترقی یافتہ پاکستان اور خود مختار ریاست کا خواب دیکھا تھا وہ آج تک شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا۔ داخلی پالیسیز سے لے کر خارجہ پالسیز تک ہم مصلحتوں اور مجبوریوں کا شکار ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی ترقی، خوشحالی اور پائیدار امن کے لیے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، جمہوری اقدار کا فروغ، خودمختاری جسے معاملات لازمی جز ہیں تبھی ملک ترقی کرے گا اور اپنے وقار میں اضافے کرے گا۔
'' تری خاک میں ہے اگر شرر تو خیال فقر و غنا نہ کر کہ جہاں میں نان شعیر پر ہے مدار قوت حیدری ''(اقبال)









آپ کا تبصرہ