بدھ 20 مئی 2026 - 13:11
امریکی سینیٹ میں بغاوت، خلیجی اتحادی پریشان، مشرقِ وسطیٰ نئے خطرناک مرحلے میں داخل

حوزہ/ ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی جارحیت کے خدشات کے درمیان امریکی سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسی کے خلاف اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سات ناکام کوششوں کے بعد ایک ایسا بل منظور کر لیا گیا جو صدر کو کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے روکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے وقفے کو اس نے اپنی عسکری تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف امریکی اور صہیونی جارحیت کے خدشات کے درمیان امریکی سینیٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جنگی پالیسی کے خلاف اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں سات ناکام کوششوں کے بعد ایک ایسا بل منظور کر لیا گیا جو صدر کو کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے روکتا ہے۔ دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی کے وقفے کو اس نے اپنی عسکری تیاریوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے استعمال کیا، جبکہ امریکی میڈیا اور عالمی تجزیہ کار خطے میں بدلتی ہوئی سیاسی صف بندی کو واشنگٹن کے لیے خطرناک قرار دے رہے ہیں۔

امریکی سینیٹ میں 50 کے مقابلے میں 47 ووٹوں سے منظور ہونے والی قرارداد نے اس حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ کے معاملے پر خود امریکی سیاسی حلقوں میں شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس قرارداد کے مطابق امریکی صدر کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو جاری نہیں رکھ سکتے۔

اگرچہ اس بل کو ایوانِ نمائندگان سے منظوری اور پھر صدارتی ویٹو جیسے مراحل کا سامنا ہے، تاہم سیاسی مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ ٹرمپ کی جنگی پالیسی کو اب اندھا دھند حمایت حاصل نہیں رہی۔ خاص طور پر ریپبلکن پارٹی کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔

امریکی کانگریس سے وابستہ ایک صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹرمپ آئندہ چند دنوں میں ایران پر محدود فوجی حملے کا حکم دے سکتے ہیں، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا بتایا جا رہا ہے۔ تاہم اس دعوے کے ساتھ ہی امریکی میڈیا میں یہ انکشافات بھی سامنے آئے کہ ٹرمپ نے جس حملے کو روکنے کا دعویٰ کیا تھا، درحقیقت اس کے لیے کوئی حتمی فیصلہ ہی نہیں کیا گیا تھا۔

امریکی ویب سائٹ “آکسیوس” کے مطابق ٹرمپ کی جانب سے قطر، سعودی عرب اور امارات کی درخواست پر حملہ مؤخر کرنے کا بیان حقیقت کے برعکس تھا، کیونکہ متعلقہ عرب ممالک کے حکام نے ایسی کسی درخواست سے لاعلمی ظاہر کی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس صورتحال نے نہ صرف واشنگٹن کی سیاسی سنجیدگی پر سوال اٹھائے بلکہ خلیجی اتحادیوں کے اعتماد کو بھی متاثر کیا ہے۔

ایرانی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے جنگ بندی کے عرصے کو “دورانِ جنگ” سمجھتے ہوئے اپنی دفاعی اور جنگی صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ بیان اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور خطے میں طاقت کا توازن اب ماضی جیسا نہیں رہا۔

اسی دوران ایک اسرائیلی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں ماضی کے بعض ہنگامے موساد کی منظم کارروائیوں کا حصہ تھے، جن کا مقصد ایران کے اندر عدم استحکام پیدا کرنا اور اسرائیلی عسکری منصوبوں کو تیز کرنا تھا۔ اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ خطے میں خفیہ جنگ کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرے گا۔

لیبیا کے مفتی اعظم شیخ صادق الغریانی نے امارات کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ پندرہ برسوں میں متحدہ عرب امارات نے خطے کی آزادی کی تحریکوں کو کچلنے میں اہم کردار ادا کیا اور اب اسے اپنے اقدامات کے نتائج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کے بیان سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اور اسرائیل۔امریکہ کشمکش اب صرف عسکری مسئلہ نہیں رہی بلکہ عرب و اسلامی دنیا کے اندر بھی اس پر شدید نظریاتی تقسیم پیدا ہو چکی ہے۔

دوسری طرف بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں صہیونی وزیر خزانہ اسموتریچ کے خلاف جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسلی امتیاز کے الزامات کے تحت گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کی درخواست نے اسرائیل پر عالمی دباؤ میں اضافہ کر دیا ہے۔

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اگر یہ کارروائی آگے بڑھتی ہے تو اسرائیلی قیادت کے لیے عالمی سطح پر سفارتی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔

امریکی جریدے “فارن افرز” نے اپنی تازہ تجزیاتی رپورٹ میں خلیجی عرب ممالک کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے مکمل طور پر امریکہ پر انحصار ترک کریں اور ایران کے ساتھ ایک جامع علاقائی معاہدے کی طرف بڑھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کئی دہائیوں کی پابندیوں، جنگوں اور حملوں کے باوجود اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، جبکہ ایران مخالف جنگ نے خلیجی ممالک کو خود ایرانی حملوں کے خطرے سے دوچار کر دیا ہے۔

تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ رائے دراصل مشرقِ وسطیٰ میں تبدیل ہوتی ہوئی عالمی سیاسی حقیقت کی عکاس ہے، جہاں امریکہ کی طاقت اور اثر و رسوخ کو پہلے جیسا ناقابلِ چیلنج نہیں سمجھا جا رہا۔

حالیہ پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جنگ کے اثرات صرف تہران اور واشنگٹن تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرقِ وسطیٰ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ امریکی داخلی اختلافات، خلیجی ممالک کی بے یقینی، اسرائیل پر بڑھتا قانونی دباؤ اور ایران کی عسکری تیاریوں نے خطے کو ایک نہایت حساس موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha