حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام علی قہرمانی نے رہبرِ انقلاب کے نوروزی پیغام میں “دشمن کی میڈیا کارروائی” سے متعلق بیان کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کا اصل ہدف افراد اور معاشرے کی یعنی سوچنے اور فیصلہ کرنے کے انداز کو بدلنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ “نفوذ” ہمیشہ کسی غدار شخص کی شکل میں نہیں ہوتا، بلکہ اکثر یہ فکری نفوذ کی صورت میں سامنے آتا ہے، جس کے نتیجے میں بظاہر مخلص افراد بھی ایسے فیصلے کر بیٹھتے ہیں جو قومی مفاد کے خلاف ہوتے ہیں۔
حجۃالاسلام قہرمانی کے مطابق، دشمن میڈیا، سوشل نیٹ ورکس اور سماجی فضا کے ذریعے ایسے “میڈیا کے ببل” بناتا ہے جن میں انسان صرف وہی باتیں دیکھتا اور سنتا ہے جو اس کی محدود ذہنیت کو مزید مضبوط کریں۔ اسی طریقے سے اہم مسائل کو کم اہم اور غیر اہم موضوعات کو نمایاں کر دیا جاتا ہے۔
انہوں نے بعض اقتصادی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غلط نجکاری جیسے فیصلے بھی اسی فکری انحراف کا نتیجہ ہو سکتے ہیں، جہاں عوامی اموال کو عوامی مفاد کے بجائے محدود مفادات کے تحت استعمال کیا جاتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ دشمن کے اس فکری و میڈیا حملے کا مؤثر مقابلہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب معاشرہ ولایت کی منظوم اور گہری فہم اختیار کرے اور حالات کو سطحی انداز کے بجائے جامع نگاہ سے دیکھے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قوم نے صحیح فکری بصیرت اختیار نہ کی تو دشمن کی “محاسبہ جاتی غلطی” خود ہمارے فیصلوں میں سرایت کر سکتی ہے، جو مستقبل میں بڑے نقصانات کا سبب بنے گی۔









آپ کا تبصرہ