حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سربراہ سازمان بسیج اساتید، طلاب و روحانیون ایران، حجت الاسلام والمسلمین عباسعلی اینانلوفر، نے تہران میں کہا کہ “وطن کے دفاع کے لیے ہم صرف بات نہیں کرتے بلکہ جان دینے کے لیے تیار ہیں۔” انہوں نے بتایا کہ اساتذہ، طلاب اور علما کی مسلسل درخواستوں کے بعد ملک بھر میں رضاکار علماء کی رجسٹریشن کا عمل شروع کیا گیا ہے تاکہ وہ امریکی و صہیونی دشمن کے مقابلے میں مسلح افواج کے شانہ بشانہ خدمات انجام دے سکیں۔
انہوں نے کہا کہ رضاکار طلاب و علماء کو جنگ اور تبلیغی گروہ کی شکل میں اعزام کیا جائے گا، تاکہ وہ ضرورت کے مطابق محاذوں پر اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
حجۃالاسلام عباسعلی اینانلوفر نے ایرانی عوام کے جوش و جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان دنوں سڑکوں، میدانوں اور عوامی اجتماعات میں لوگوں کی بھرپور موجودگی نے وطن سے محبت، نظامِ اسلامی کی حمایت اور مسلح افواج سے یکجہتی کو نمایاں کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طلاب و علما کی جانب سے محاذ پر جانے کے لیے بڑھتی ہوئی رغبت اس بات کی علامت ہے کہ حوزہ علمیہ ہمیشہ کی طرح قوم کے ساتھ کھڑا ہے اور دفاعِ وطن کو اپنی دینی و قومی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
آخر میں انہوں نے شہدائے جنگ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بسیجی طلاب و علماء رہبر معظم کے حکم پر ہر قسم کی قربانی کے لیے آمادہ ہیں۔









آپ کا تبصرہ