اتوار 24 مئی 2026 - 21:15
آل خلیفہ ظلم اور کفر کے کارندے ہیں / اب خاموشی اور تقیہ کا وقت نہیں

آیت اللہ فاضل لنکرانی:

آل خلیفہ ظلم اور کفر کے کارندے ہیں / اب خاموشی اور تقیہ کا وقت نہیں

حوزہ علمیہ اور مراجع تقلید کی فکر اور توجہ اور ایرانی عوام کے دلوں کی ہمدردی آپ کے ساتھ ہے

حوزہ / آیت اللہ فاضل لنکرانی نے کہا: میں نظامِ اسلامی جمہوریہ کے ذمہ داران سے کہتا ہوں کہ بحرین، متحدہ عرب امارات اور خطے کے ان ممالک کے معاملے میں جو امریکہ اور اسرائیل کا آلہ کار بن چکے ہیں، ہرگز سمجھوتہ نہ کریں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم کے رکن اور مرکز فقہی ائمہ اطہار(ع) کے سربراہ آیت اللہ محمدجواد فاضل لنکرانی سے بحرینی طلبہ اور فضلاء کے ایک گروپ نے قم میں ملاقات کی۔

رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں آیت اللہ فاضل لنکرانی کی گفتگو کا خلاصہ درج ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

امام باقر(ع) کی شہادت پر امام زمان(عج) اور بحرین کے معزز علماء اور تمام شیعیان، خاص طور پر شیعیان بحرین کو تسلیت پیش کرتا ہوں اور امیدوار ہوں کہ امام باقر اور امام زمان(عج) کی دعا سے جلد ہی دنیا کے شیعیان خاص طور پر بحرین کے شیعیان کے لیے آسانیاں حاصل ہوں۔

واضح ہے کہ خلیج فارس کے ممالک میں بحرین کے عوام اور علماء کو شیعہ تشخص پر استقامت اور شیعت کے اصل راستے (جو کہ ابا عبداللہ الحسین(ع) کا راستہ ہے) پر جاری رہنے میں ایک خاص خصوصیت اور امتیاز حاصل ہے۔ اگرچہ بحمداللہ تمام شیعہ اسی راستے پر ہیں اور ہم ان کے درمیان زیادہ فرق نہیں کرنا چاہتے، شیعہ وہ ہے جو ابا عبداللہ الحسین(ع) کے خط پر ہو، جو اہل بیت(ع) کے مکتب کے تحفظ کے لیے اپنی جان دینے کو تیار ہو، خواہ کوئی بھی حالت ہو، چاہے ایران ہو یا غیر ایران؛ یہ وہ سبق ہے جو امام حسین(ع) نے ہمیں سکھایا ہے اور ہم نے واقعہ کربلا سے سیکھا ہے، ہمارا انقلاب عاشورا، کربلا اور ابا عبداللہ الحسین(ع) سے جڑا ہے۔

ہمیں اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ بحرین کے شیعہ اور علماء تاریخ میں اسلام کے دفاع میں پیش پیش رہے ہیں، مجھے یاد ہے ابتدائے انقلاب سے بحرین پر گفتگو حوزہ علمیہ کے مراجع اور علماء میں ایک خاص اور مخصوص حیثیت رکھتی تھی، ایرانی عوام میں بھی بحرین ایک خصوصیت رکھتا ہے کہ ہمارے لوگ بحرین کو اپنا حصہ سمجھتے ہیں جیسے خود کو ان کا حصہ سمجھتے ہیں اور ہم اپنے درمیان ایک خاص قربت، نزدیکی اور وحدت محسوس کرتے ہیں۔ یہ ہمارے اعزازات میں سے ہے۔

اب بحمداللہ وہاں آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم موجود ہیں اور برسوں سے اپنے خطبات اور رہنمائیوں سے عوام کی راہنمائی اور قیادت کر رہے ہیں، بڑے عظیم علماء بھی تھے جو اب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اللہ کا شکر ہے کہ موجودہ علماء بھی بہت موثر ہیں اور یہ امر تشیع کی حقانیت کو پہنچاتا ہے۔

آل خلیفہ کے اس بڑے ظلم کی خبر سن کر جس نے بحرین کے بڑے علماء کو بے بنیاد الزامات میں اس طرح قید کر دیا، مجھے فوری طور پر بنی امیہ اور بنی عباس کے حاکموں کی یاد آ گئی، وہ بھی یہی حرکتیں کیا کرتے تھے، رات کے وقت ائمہ کے اصحاب پر حملہ کر کے انہیں لے جاتے اور تشدد کرتے تھے۔

بحرین کے شیعوں اور علماء کو یقین ہونا چاہیے کہ وہ شیعت کے بہت مضبوط خط پر گامزن ہیں اور یہ بہت اہم ہے۔ جب رات کے وقت امام صادق(ع) کے گھر پر حملہ کر کے آپ کو منصور کے پاس لے جایا گیا تو علماء کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں، دوسرے علماء کو اس طرح قید کیوں نہیں کرتے؟ صرف شیعہ علماء کے پیچھے پڑتے ہیں، وہ بھی ان علماء کے پیچھے جن کے پاس مدرسہ، حوزہ اور حسینیہ ہے، یہ سب آپ کے راستے کی حقانیت اور عظمت کی دلیل ہے، اگرچہ ہمیں بہت رنج ہے، واقعی جب سے انہیں گرفتار کیا گیا، میں خود بہت متاثر ہوا، ایرانی عوام بھی اس واقعے سے بہت ناراض ہیں۔

میں بحرین کے عوام اور آپ معزز علماء سے کہوں گا، اگر یہ واقعہ ایران کے عام حالات میں پیش آیا ہوتا تو جان لیں کہ حوزہ علمیہ بند ہو جاتا اور آل خلیفہ کے اقدامات سے اظہار بیزاری اور مذمت کے لیے بڑے اجتماعات منعقد ہوتے لیکن چونکہ ہم جنگی حالت میں ہیں، ان اجتماعات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔ علماء کے لیے تو بہت واضح ہے، بحرین کے شیعہ بھی مطمئن رہیں کہ حوزہ علمیہ کا دل اور مراجع تقلید کی فکر اور توجہ اور ایرانی عوام کے دلوں کی ہمدردی آپ کے ساتھ ہے، ایسا نہیں ہے کہ ہم آپ سے غافل ہوں؛ ایرانی قوم آپ کی مشکلات کو اپنی مشکلات سمجھتی ہے۔

ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کے تمام شیعیان، خاص طور پر خطے کے شیعیان اور بالخصوص بحرین کے شیعیان کے لیے آسانیاں فراہم کرے اور ان ممالک سے امریکہ اور اسرائیل کے شر کو دور کرے، یہ ساری مشکلات انہوں نے پیدا کی ہیں، اگر خطے کے ممالک شروع سے ہی امریکہ کے محکوم نہ ہوئے ہوتے، ایران نے ہمیشہ انہیں برادرانہ ہاتھ دیا اور یہی چاہتا تھا کہ آؤ ہم سب ساتھ رہیں، ہمارے مشترکہ مفادات ہیں، ایران نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ کسی ملک پر قبضہ کرے، ایران کی بات صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ اسرائیل کا خاتمہ ہونا چاہیے کیونکہ یہ ایک غاصب اور جعلی حکومت ہے۔

ان شاء اللہ بحرینی اور دیگر عرب حکمران عقل سے کام لیں اور تدبیر کے ساتھ، پہلی بات تو یہ کہ اپنی عوام سے مانوس رہیں، اپنے علماء کی حفاظت کریں، یہ لوگ بحرین کے باشندے ہیں، شہریت چھیننا کسی ریاست کی کمزوری کی علامت ہے نہ کہ طاقت کی؛ ارض الله الواسعه، اللہ کی زمین وسیع ہے، یہ لوگ کہیں اور چلے جائیں گے اور اپنی ذمہ داری ادا کرتے رہیں گے لیکن یہ تمہاری اپنی بے اعتباری ہے، کسی ملک کے علماء اس ملک کا علمی، دینی اور ثقافتی سرمایہ ہوتے ہیں، یہ حماقت ہے کہ تم علماء کے ساتھ اس طرح کا سلوک کر رہے ہو اور تمہیں اس کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔

مجھے امید ہے کہ ان شاء اللہ یہ مجاہدتیں، ایثار اور استقامتیں اچھے نتائج پیدا کریں گی اور ہم جلد از جلد امام زمان(عج) کی دعا سے یہ نتائج دیکھیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha