جمعرات 21 مئی 2026 - 10:17
بحرین کے فاضل علماء کی آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی سے ملاقات

حوزہ / جنگ رمضان نے آل خلیفہ حکومت کے کھوکھلے وقار کو سخت دھچکا پہنچایا، اس لیے جنگ کے خاتمے کے بعد شیعوں پر دباؤ ڈال کر وہ ایران سے انتقام لینے پر تل گئے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے فعال اور فاضل علماء کے ایک گروپ نے ایران کے شہر قم المقدسہ میں حضرت آیت اللہ شبیری زنجانی سے ملاقات کی اور انہیں بحرین کے شیعیان کی صورتحال خاص طور پر جنگ رمضان کے بعد کے حالات سے آگاہ کیا۔

المجلس العلماء بحرین کے رکن حجت الاسلام والمسلمین محمد خجستہ نے بحرین کے شیعیان کی صورتحال اور حالیہ برسوں میں بحرین کی حکومت کے ان کے خلاف مخالفانہ موقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا: جنگ رمضان نے آل خلیفہ حکومت کے کھوکھلے وقار کو سخت دھچکا پہنچایا۔ اس لیے جنگ کے خاتمے کے بعد شیعوں پر دباؤ ڈال کر وہ ایران سے انتقام لینے پر تلے ہوئے ہیں۔ پہلے قدم پر انہوں نے 73 بحرینیوں کی شہریت ایران سے تعلق رکھنے کے الزام پر چھین لی گئی اور انہیں بحرین سے نکال دیا گیا۔

بحرین کے فاضل علماء کی آیت اللہ العظمیٰ شبیری زنجانی سے ملاقات

اگلے قدم میں 9 مئی 2026ء کو ہفتے کے دن صرف 4 گھنٹوں کے اندر بحرین کے 41 برجستہ شیعہ علماء کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں گرفتار کر لیا گیا اور ان کے ذاتی اثاثے ضبط کر لیے گئے۔ ان پر الزام تھا کہ وہ پاسداران انقلاب سے رابطہ رکھتے ہیں اور بحرین میں ولایت فقیہ کے نظریے کو فروغ دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ جنگ کے آغاز سے ہی بحرین کے بہت سے شیعہ افراد کو ایران کی حمایت کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے کویت اور متحدہ عرب امارات کی حکومتوں کی طرف سے ان دو ممالک کے شیعوں پر ڈالے جانے والے دباؤ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ خدشہ ہے کہ اگلے اقدامات میں فعال حوزات علمیہ، شیعہ ثقافتی مراکز کو بند کر دیا جائے اور شیعہ مساجد کے ائمہ جمعہ و جماعت کو مساجد سے نکال دیا جائے۔

حضرت آیت اللہ شبیری زنجانی نے خلیج فارس کے ممالک کے شیعوں کے خلاف دباؤ کے خاتمے کی امید ظاہر کرتے ہوئے زور دیا کہ پوری تاریخ میں شیعہ اللہ کی خصوصی توجہ کا مرکز رہے ہیں اور خدا کے فضل سے ان سے بہت سی بلائیں دور ہوتی رہی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha