ہفتہ 23 مئی 2026 - 13:23
امریکہ اور صہیونی حکومت سے براءت تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے

حوزہ/ مجمع تقریبِ مذاہب اسلامی کے زیر اہتمام “حج؛ وحدت کا مرکز” کے عنوان سے ایک بین الاقوامی تخصصی نشست منعقد ہوئی، جس میں ایران، عراق، شام، بحرین، اٹلی، انڈونیشیا اور افغانستان سمیت مختلف ممالک کے علماء و دانشوروں نے شرکت کی۔ مقررین نے حج کو امتِ مسلمہ کے اتحاد، بیداری اور استکبارِ عالم خصوصاً امریکہ و اسرائیل سے براءت کا عظیم پلیٹ فارم قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع تقریبِ مذاہب اسلامی کے زیر اہتمام “حج؛ وحدت کا مرکز” کے عنوان سے ایک بین الاقوامی تخصصی نشست منعقد ہوئی، جس میں ایران، عراق، شام، بحرین، اٹلی، انڈونیشیا اور افغانستان سمیت مختلف ممالک کے علماء و دانشوروں نے شرکت کی۔ مقررین نے حج کو امتِ مسلمہ کے اتحاد، بیداری اور استکبارِ عالم خصوصاً امریکہ و اسرائیل سے براءت کا عظیم پلیٹ فارم قرار دیا۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید مہدی قریشی نے کہا کہ آج اسلام دشمن طاقتیں متحد ہو کر مسلمانوں کے خلاف صف آرا ہیں، لہٰذا امتِ مسلمہ پر لازم ہے کہ وہ حج میں نظر آنے والے اتحاد و انسجام کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنائے تاکہ مسلمان حقیقی “امتِ واحدہ” بن سکیں۔

بحرین سے شیخ عبداللہ الدقاق نے کہا کہ حج صرف عبادت نہیں بلکہ ایک توحیدی اور سیاسی فریضہ بھی ہے۔ ان کے مطابق مشرکین اور عالمی استکبار سے براءت حج کا بنیادی حصہ ہے اور اس کے بغیر حج کے حقیقی پیغام کو سمجھا نہیں جا سکتا۔

لبنانی محقق ایمان محمد حرب نے کہا کہ امام خمینیؒ نے حج کے دوران براءت از مشرکین پر خاص تاکید کی تاکہ مسلمان “شیطانِ بزرگ” امریکہ اور صہیونی حکومت کے خلاف متحد ہو سکیں۔

انڈونیشیا کے محقق سید عبداللہ اسقاف نے کہا کہ حج مسلمانوں کو ظلم و استبداد کے خلاف مزاحمت اور مظلوموں کی حمایت کا درس دیتا ہے۔

مہاباد کے سنی امام جمعہ مولوی ڈاکٹر عبدالسلام امامی نے غزہ، لبنان، یمن اور دیگر اسلامی ممالک میں جاری مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر امت مسلمہ حج کے حقیقی فلسفے کو سمجھتی تو آج اسلامی دنیا اس قدر بحرانوں کا شکار نہ ہوتی۔

افغانستان کے مولوی عبدالرؤوف توانا نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو ایسے حج کی ضرورت ہے جو مسلمانوں کی عزت و وحدت کو بحال کرے اور انہیں دشمنوں کے مقابلے میں متحد بنائے۔

مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ حج محض چند عبادات کا نام نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی بیداری، وحدت، استقامت اور اسلام دشمن قوتوں کے خلاف مشترکہ موقف کا عالمی مظہر ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha