تحریر: مولانا سید ذہین کاظمی نجفی
حوزہ نیوز ایجنسی I عالمِ اسلام کے موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے مقدسات اور مشترکہ اقدار کے تحفظ کے لیے متحد رہیں۔ مکہ، مدینہ، نجف، کربلا اور مشہد قم نہ صرف مذہبی اہمیت کے حامل مقامات ہیں بلکہ یہ پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ روحانی اور تاریخی وراثت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ حافظ سید ذہین علی نجفی کے مطابق، ان مقدس مراکز کا احترام اور حفاظت ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے، اور ان کی مرکزیت پر امت کے ہر طبقے کو یکساں طور پر متفق رہنا چاہیے۔
انہوں نے قرآنِ مجید کی آیت "یا أیها الذین آمنوا لا تتخذوا الیہود والنصاری أولیاء" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کو چاہیے کہ وہ اپنی اجتماعی خودمختاری، دینی تشخص اور سیاسی بصیرت کو ہر حال میں مقدم رکھے۔ اس آیت کا مقصد امت کو یہ شعور دینا ہے کہ ایسے تعلقات اور پالیسیاں اختیار نہ کی جائیں جو امت کی وحدت اور سالمیت کو کمزور کریں۔ تاریخی تجربات سے یہ بات واضح ہے کہ استعماری قوتوں نے ہمیشہ مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ اسی لیے آج کے دور میں امتِ مسلمہ کے لیے سب سے اہم ضرورت باہمی اعتماد، اتحاد اور مشترکہ حکمتِ عملی ہے۔حافظ سید ذہین علی نجفی نے ایران کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ چالیس سالہ پابندیوں، مسلسل دباؤ اور سخت حالات کے باوجود ایران نے جس استقامت، حوصلہ اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا، وہ پوری امت کے لیے مشعل راہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں بچوں کے اسکولوں پر حملے، معصوم جانوں کی قربانی، اور ہزاروں شہداء، خاص طور پر رہبر ایران آیت اللہ علی خامنائی کی قیادت میں شہداء کے خون کی برکت سے راہِ جاں محفوظ رہی ہے۔ یہ قربانیاں امتِ مسلمہ کے لیے راہِ فتح ہموار کرنے کا سبب بنیں گی۔
مزید برآں، حافظ سید ذہین علی نجفی نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں عوامی سطح پر اتحاد اور یکجہتی کی سوچ مضبوط ہو رہی ہے۔ اگرچہ کچھ عناصر اب بھی تقسیم اور تعصب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر مجموعی طور پر امت میں بیداری، اتفاق اور مشترکہ شعور پیدا ہو رہا ہے۔ ایسے حالات میں مسلم حکمرانوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ وہ اپنے عوام کی رہنمائی کرتے ہوئے مشترکہ مقدسات، مشترکہ اقدار اور باہمی احترام کی بنیاد پر متحد موقف اختیار کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام "لا إله إلا الله تفلحوا" آج بھی امت کے لیے نجات، عزت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ امتِ مسلمہ کی حقیقی فتح اسی وقت ممکن ہے جب مسلم امہ، خصوصاً حکمران طبقہ، بیدار، متفق اور ایک صف میں کھڑا ہو۔ دشمن کی سازشیں اس وقت ناکام ہوں گی جب مسلمان اپنے مقدسات، دینی اقدار اور اجتماعی وحدت کے تحفظ کے لیے متحد اور متحرک عمل کریں۔ آج کے چیلنجز میں یہ امت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اختلافات کو ختم کرے، تعصبات کو دور کرے اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے اپنی شناخت، آزادی اور روحانی وراثت کی حفاظت کرے۔
یقیناً مکہ، مدینہ، نجف، کربلا اور مشہد کی حفاظت اور احترام امتِ مسلمہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اور یہ مقدسات امت کو ایک متحد، مضبوط اور پرعزم معاشرتی اور سیاسی قوت بنانے کا ذریعہ ہیں۔ یہی امت کی بقا اور مستقبل کی کامیابی کی بنیاد ہے، اور اسی اتحاد کے ذریعے عالمِ اسلام حقیقی فتح اور عزت کے اعلیٰ مقام تک پہنچ سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ