حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم المقدسہ میں مجمع علمائے پاکستان (حوزۂ علمیہ قم) کے زیرِ اہتمام “دفاعِ اُمت کانفرنس” امام خمینیؒ کمپلیکس کے قدس ہال میں منعقد ہوئی، جس میں علماءِ پاکستان، فضلاء اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے بھرپور شرکت کی۔ کانفرنس کا انعقاد موجودہ عالمی و علاقائی حالات کے تناظر میں امتِ مسلمہ کے اتحاد، فکری بیداری اور مظلوم اقوام کی حمایت کے عزم کو اجاگر کرنے کے لیے کیا گیا۔

اس موقع پر حوزہ نیوز کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف علماء کرام نے اس بات پر زور دیا کہ رہبرِ معظم کے افکار و نظریات کو زندہ رکھنا اور شہدائے مقاومت کی قربانیوں کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ مقررین نے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے ساتھ تجدیدِ عہد کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نظامِ اسلامی کی حمایت ہر حال میں جاری رکھی جائے گی اور ظلم و استکبار کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔

حوزۂ علمیہ قم المقدسہ کے فاضل استاد، حجۃ الاسلام والمسلمین سید ارتضیٰ رضوی نے کہا کہ امتِ مسلمہ کی نجات اتحاد، بصیرت اور استقامت میں مضمر ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عالمِ اسلام کو داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ دشمن کے خلاف متحد ہونا ہوگا، جبکہ پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین غلام محمد شاکری، جو گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے فعال مبلغ ہیں، نے کہا کہ شہدائے مقاومت کی قربانیاں امت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حالات میں خاموشی یا غیرجانبداری اختیار کرنا کسی صورت درست نہیں، بلکہ ہر صاحبِ شعور فرد پر لازم ہے کہ وہ حق کا ساتھ دے اور مظلوموں کی حمایت میں آواز بلند کرے۔ علماء کی ذمہ داری ہے کہ وہ قوم کی فکری و عملی رہنمائی کریں۔

حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن رضوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کو درپیش بحرانوں کا حل اتحاد، بصیرت اور استقامت میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمِ اسلام کو صہیونیت و استکبار کے خلاف ایک واضح اور مشترکہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا تاکہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکے۔

مولانا احسان دانش نے قرآن مجید کی تعلیمات کی روشنی میں کہا کہ حقیقی مسلمان وہ ہیں جو آپس میں محبت، اخوت اور رحمت کا مظاہرہ کرتے ہیں جبکہ دشمنانِ اسلام کے مقابلے میں مضبوط اور ثابت قدم رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو عناصر یا ممالک ظالم قوتوں کا ساتھ دیتے ہیں یا کسی بھی شکل میں ان کی معاونت کرتے ہیں، وہ درحقیقت امت کے مفادات کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کو اپنے کردار اور طرزِ عمل کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔

مولانا دانش ندیم محمدی، نمائندہ طلاب پاکستان (جامعہ المصطفیٰ العالمیہ، قم)، نے کہا کہ موجودہ دور میں علماء اور طلبہ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جدید فکری چیلنجز کا مقابلہ گہرے علمی مطالعے اور تحقیق کے ذریعے کریں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو سیرتِ نبویؐ اور ائمہؑ معصومین کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ایک مثبت، باوقار اور متوازن اسلامی شناخت تشکیل دینی چاہیے، تاکہ وہ دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی اور پرامن چہرہ پیش کر سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ علمی و فکری بیداری ہی امت کو موجودہ فتنوں سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

ڈاکٹر محمد لطیف مطہری کچوروی نے امتِ مسلمہ سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ بیداری، اتحاد اور استقامت کو اپنا شعار بناتے ہوئے ظلم و ناانصافی کے خلاف ڈٹ جائے اور مظلوم اقوام، بالخصوص عالمِ اسلام کے متاثرہ طبقات کی عملی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ امت محض بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ عملی میدان میں بھی اپنا کردار ادا کرے۔

اسی طرح پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک اور عالمِ دین نے اپنے تاثرات میں کہا کہ اس نوعیت کی کانفرنسیں نہ صرف امتِ مسلمہ کے درمیان فکری ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہیں بلکہ ایک مشترکہ لائحہ عمل کی تشکیل میں بھی کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے حالات میں سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ مسلمان باہمی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں، مظلوموں کی حمایت کریں اور ظالم قوتوں کے خلاف متحد ہو کر کھڑے ہوں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس پیغام کو پاکستان کے طول و عرض میں پہنچایا جائے گا تاکہ اتحادِ امت ایک عملی حقیقت بن سکے۔









آپ کا تبصرہ