ہفتہ 23 مئی 2026 - 23:10
بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات میں شدت، اہم شیعہ ثقافتی ادارہ بند

حوزہ/ بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کے تسلسل میں حکومت نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر 19 کے تحت "جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ" (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو ملک میں شیعوں کا سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین میں شیعہ مخالف اقدامات کے تسلسل میں حکومت نے سنہ 2026 کے حکم نامہ نمبر 19 کے تحت "جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ" (اسلامی آگاہی سوسائٹی) کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جو ملک میں شیعوں کا سب سے نمایاں ثقافتی اور سماجی ادارہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ ادارہ عملی طور پر کسی بھی سیاسی یا جماعتی سرگرمی سے دور رہا ہے اور اپنی تاسیس کے آغاز سے ہی دینی، سماجی اور تربیتی خدمات انجام دیتا رہا ہے، تاہم بحرینی حکومت کے حالیہ فیصلے کو شیعہ برادری کے خلاف جاری دباؤ اور محدودیتوں کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ ادارہ سنہ 1972 میں آیت اللہ شیخ عیسی قاسم کی قیادت میں بحرین کے ممتاز علماء کے ہاتھوں قائم کیا گیا تھا اور بعد میں یہ بحرین اور خلیجی خطے کے اہم ترین شیعہ ثقافتی مراکز میں شمار ہونے لگا۔

جمعیت کی تعطیل کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بحرینی حکام نے پہلی مرتبہ فروری 1984 میں اس ادارے کو بند کیا تھا اور یہ پابندی 2001 تک برقرار رہی۔ بعد ازاں "قومی منشور" پر رائے شماری کے بعد سیاسی فضا میں نسبتاً نرمی آنے پر اسے دوبارہ فعالیت کی اجازت ملی۔ پھر جون 2016 میں شیعہ دینی شخصیات اور اداروں کے خلاف وسیع کارروائیوں کے دوران ایک بار پھر اس تنظیم کو بند کر دیا گیا۔

9 جون 2022 کو اگرچہ تحلیل کا حکم واپس لے لیا گیا اور ادارے نے دوبارہ سرگرمیاں شروع کیں، لیکن اس دوران بھی اس پر مختلف قانونی اور انتظامی پابندیاں عائد رہیں۔ ادارے کے ذمہ داران کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، بورڈ بند کیا گیا اور متعدد سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔ یہاں تک کہ جمعیت کے سربراہ اور تین کارکنوں کو بھی گرفتار کیا گیا۔

تازہ حکم نامے کے بعد "جمعیۃ التوعیۃ الاسلامیۃ" ایک بار پھر بندشوں کے نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے، جس کے بعد بحرین میں مذہبی آزادی، شیعہ حقوق اور حکومت کے "رواداری" و "پرامن بقائے باہمی" کے دعووں پر سوالات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں۔

مبصرین کے مطابق گزشتہ 54 برسوں کے دوران اس ادارے کی سرگرمیاں مکمل طور پر ثقافتی، دینی اور سماجی نوعیت کی رہی ہیں، اس کے باوجود بار بار اس کی بندش اس بات کی علامت ہے کہ بحرینی حکومت ملک کی سب سے بڑی مذہبی آبادی کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس سے معاشرتی اعتماد اور قومی ہم آہنگی مزید متاثر ہو رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha