حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے علماء نے شیعوں کو نشانہ بنانے اور ان پر پابندیاں عائد کرنے کی حکومتی پالیسی کے تسلسل پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے سنگین نتائج سے خبردار کیا ہے۔
بحرینی علما نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے محرم الحرام کے آغاز کے ساتھ ہی بعض خطبائے مجالس اور نوحہ خوانوں کو شعائرِ حسینی کی ترویج اور اپنی دینی ذمہ داریاں انجام دینے سے روک دیا ہے، جو مذہبی آزادیوں پر کھلا حملہ، آئین کی صریح خلاف ورزی اور مؤمنین کے اپنے عقائد پر عمل کرنے کے بنیادی حق کی پامالی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ بحرین میں صدیوں سے شیعہ اپنے مذہبی شعائر اور عزاداری کی رسومات مرجعیتِ دینی کی ہدایات کے مطابق انجام دیتے آئے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے اپنایا گیا یہ طرزِ عمل نہ صرف اشتعال انگیز ہے بلکہ ملک کے مذہبی اور سماجی ماحول کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
علماء نے مزید کہا کہ برسوں سے جاری یہ منظم پالیسی حکومت کے اس دعوے کی حقیقت آشکار کرتی ہے کہ وہ مذہبی رواداری اور ادیان کے احترام کی حامی ہے۔ ان کے بقول، موجودہ صورتحال میں غیر مسلموں اور دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو وہ آزادی حاصل ہے جو بحرین کے مقامی شیعہ شہریوں کو میسر نہیں۔
بحرین کے علماء نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ خطباء اور ذاکرین پر عائد پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں، اشتعال انگیز پالیسیوں سے دستبرداری اختیار کی جائے اور ایامِ عاشورا کے پرامن مذہبی ماحول کو متاثر کرنے سے گریز کیا جائے۔









آپ کا تبصرہ