اتوار 3 مئی 2026 - 19:57
استاد اور معلم کا حق اہم ترین الہی اور انسانی حقوق میں سے ایک ہے

حوزہ / حوزہ علمیہ کے مدیر نے کہا: میں اپنے دل کی گہرائیوں سے سب راہنماؤں، اساتذہ، معلموں اور مربیوں خاص طور پر بزرگ اور عالی مرتبت اساتذہ کو سلام، خراجِ تحسین اور شکریہ ادا کرتا ہوں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ کے مدیر آیت اللہ علی رضا اعرافی نے ہفتۂ استاد و معلم کے موقع پر ایک پیغام جاری کرتے ہوئے تمام اساتذہ، معلمین اور مربیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ان کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بسم الله الرحمن الرحیم

هُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْأُمِّیِّینَ رَسُولًا مِّنْهُمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِهِ وَیُزَکِّیهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَةَ

روز استاد اور معلم کے موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور تمام سرخرو شہداء کی روحوں پر درود و سلام بھیجتا ہوں، خاص طور پر رہبر شہید اور شہید معلمین و اساتذہ جو تعلیم و تربیت، یونیورسٹی اور حوزات علمیہ سے تعلق رکھتے ہیں بالخصوص شہید استاد آیت اللہ مطہری (رہ) کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔

اگرچہ ہر دن اساتید اور راہنماؤں کے نور سے روشن اور کامیاب ہوتا ہے لیکن 12 بہمن / 02 مئی (شہید مطہری کی شہادت کی برسی) ان پاکباز اور فداکار اساتید و مربیوں کو یاد کرنے کا موقع ہے جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، خاص طور پر وہ سرخرو شہداء جو استادوں اور معلموں کی صف سے تھے۔

اسی طرح یہ دن تمام علمی، ثقافتی، حوزوی اور یونیورسٹی اداروں میں موجود اپنے عزیز اساتذہ کے سامنے عہد و محبت کی تجدید، قدردانی اور شکرگزاری کا بھی موقع ہے۔

استاد کا مرتبہ اسلامی اور حوزوی نقطہ نظر سے ایک آسمانی مرتبہ ہے۔ یہ اللہ کے حسین ناموں کا عکس اور نبوت، رسالت اور امامت کے سورج کی کرن ہے۔

استاد اور معلم کا سب سے بڑا فریضہ طلباء اور عزیز نوجوانوں کی مکمل اور متوازن تربیت کرنا اور انہیں مناسب ہدایت و راہنمائی دینا ہے۔ اسی وجہ سے استادی ایک علم بھی ہے، ایک فن اور مہارت بھی ہے اور یہ ایمان، محبت، ایثار اور قربانی پر بھی مبنی ہے۔ اسی بنا پر استاد، معلم اور مربی کا حق سب سے بڑے الہی اور انسانی حقوق میں سے ہے۔

حوزات علمیہ کی روایت میں استاد کا مقام بہت بلند اور ہمیشہ یاد رکھے جانے والا ہے۔ استاد اور شاگرد کا رشتہ پائیدار اور مضبوط رشتہ ہے۔ حوزہ کے نظام میں شاگردی اور استادی کی روایات میں بہت سے راز اور حکمتیں پوشیدہ ہیں۔

میں اپنے دل کی گہرائیوں سے تمام راہنماؤں، استادوں، معلموں اور مربیوں کو، خاص طور پر بزرگ اساتذہ کو سلام، خراج تحسین اور شکریہ ادا کرتا ہوں اور میں ان تمام اساتذہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے حق و باطل کی اس کشمکش میں اور امریکی-صیہونی جنگ کے ایام میں — جو ایران، اسلام، انقلاب اسلامی، مسلم امت اور محورِ مزاحمت کے خلاف تھی — دلیری اور قربانی کے ساتھ کردار ادا کیا اور گلیوں، چوکوں، تبلیغی اور تشریحی محاذوں پر اپنی عزیز عوام، اپنے شاگردوں، طلباء، فضلاء اور معزز علماء و روحانیوں کے ساتھ مل کر لوگوں کے ہم راہ اور راہنما رہے۔

میں امید کرتا ہوں کہ یہ کردار ادا کرنا، یہ ایمانی اور انقلابی حاضر رہنا ہمیشہ جاری رہے اور یہ کہ بزرگ اساتید کے رشتے — ابتدائی سطحوں سے لے کر اعلیٰ خارجی، اجتہادی اور تخصصی دروس دینے والے اساتذہ تک — طلباء، فضلاء، شاگردوں اور منتظمین کے ساتھ قائم رہیں اور عزیز طلباء کی علمی اور روحانی ترقی کا باعث بنیں، اور حوزہ، روحانیت اور ملت کی صفوں کو مضبوطی فراہم کریں اور اللہ تعالیٰ ملت ایران، محورِ مقاومت، امت مسلمہ اور حضرت ولی عصر (عج) کے سپاہیوں کے لیے فتح و کامرانی مقرر فرمائے، ولایت اور مرجعیت کا سایہ ہمیشہ قائم رکھے اور اسلام اور ایران کی مسلح افواج کو سرفراز اور کامیاب فرمائے۔

علی رضا اعرافی

مدیر حوزہ علمیہ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha