منگل 5 مئی 2026 - 00:08
غزل؛ فارغ مرا ز رهگذر صبح و شام کن

حوزہ/حضرت آیت اللہ العظمیٰ السید الشہید علی الحسینی الخامنہ ای طاب اللہ ثراہ کی شان میں عارفانہ غزل پیش خدمت ہے۔

از قلم: مولانا ڈاکٹر اصغر اعجاز قائمی

حوزہ نیوز ایجنسی|

فارغ مرا ز رهگذر صبح و شام کن

کار مرا به گردش چشمی تمام کن

ترجمہ

اے میرے ممدوح مجھے صبح و شام کی مصروفیات ومشغولیات سے آزاد کر دے، اور میری تمام مشکلات اورپریشانیوں کو ایک نظرِ کرم اور چشم عنایت سے ختم کر دے۔

توضیح

شاعر یہاں حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے دعا کر رہا ہے کہ دنیاوی مصروفیات اور الجھنوں سے مجھےنجات دیجئے اس شعر میں گردش چشمی سے مراد صرف ایک نظر عنایت ہے ،اس عقیدے اور ایمان سے یہ ظاہرہوتاہےکہ اولیاء الہی کی ایک توجہ انسان کی زندگی اور حیات مستعار میں تبدیلی لانے کیلیے کافی ہوتی ہے

بگشای صفحه‌ای دگر از دفتر جمال

بیتی فزون بر این غزل ناتمام کن

ترجمہ

اے میرے ممدوح اپنے حسن و جمال کی کتاب کا ایک اور صفحہ میرےلئےکھول دیجئے، اور اس ناتمام عارفانہ غزل میں ایک اور خوبصورت شعر کا اضافہ کردیجئے

توضیح

یہاں شاعر اپنی زندگی کو ایک ادھوری اور ناتمام غزل کے طورپر پیش کرتاہےاورحضرت امام علی رضا علیہ السلام سے دعا کرتا ہے کہ وہ اپنی عنایت اور نوازش سے اس نامکمل زندگی کو مکمل اور خوبصورت بنا دیں۔اس شعر میں دفتر جمال سے مراد الٰہی حسن، روحانی کمال،معنوی فضایل اور عارفانہ زندگی ہے

ای یادگار ساقی کوثر اباالحسن

گاهی نظر به جانب این تشنه‌کام کن

ترجمہ

اے ساقی کوثر حضرت امام علی علیہ السلام کی یادگار کبھی اس پیاسےاور تشنہ کام کی طرف بھی نظرِ کرم اور چشم عنایت فرمادیجئے

توضیح

شاعر حضرت امام علی رضاعلیہ السلام کو حضرت امام علی علیہ السلام کی یادگار اور نشانی کہہ کر مخاطب کرتا ہے اور اپنی روحانی اور معنوی پیاس کا تذکرہ کرتا ہے اس شعر میں تشنہ‌کام سے ہدایت اور رحمت و رافت کا طلبگار انسان مراد ہے

ای حکمران کشور دل با کرشمه‌ای

زیر و زبر قرار دل خاص و عام کن

ترجمہ

اے دلوں کی مملکت کے بادشاہ اپنی ایک ادا اور کرشمہ سے خاص و عام سب کے دلوں کی حالت کو زیرو زبر کردیجئے یعنی متغیر اور تبدیل کر دیجئے

توضیح

اس شعر کےپیکرمیں حضرت امام علی رضاعلیہ السلام کی روحانی حکومت اور الہی مملکت کا تذکرہ کیا گیا ہے شاعر بڑے عزم و یقین سے کہتا ہے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام اپنےایک اشارے کے ذریعے انسانوں کے دل ،نظریات اور کیفیتیں بدل سکتے ہیں

بنمای ره به مُلک رضا، جان خسته را

مرغ رمیده را به شکر خنده رام کن

ترجمہ

اے میرے ممدوح اس تھکی ہوئی جان کو حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے ملک کا راستہ دکھا دیجئے یا رضائے الٰہی کا راستہ دکھا دیجئے اور بھٹکے ہوئے پرندے کو اپنے میٹھےتبسم اورشیریں مسکراہٹ سے مطمئن و مانوس کر دیجئے

توضیح

اس شعر میں جان خسته سے مراددنیا سے تھکا ہوا انسان ہے اور مرغ رمیده سے مرادبھٹکی ہوئی روح ہے

شاعر اس شعر میں اپنی ہدایت اور سکون قلب کی دعا کر رہا ہے

اینک هزار دست تمنّا گشوده بین

دست کرم گشاده به رسم کرام کن

ترجمہ

اےمیرے ممدوح دیکھئے کہ ہزاروں ہاتھ دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہیں، آپ بھی اہل کرم کی سخاوت کی مطابق اپنی سخاوت کا ہاتھ کھول دیجئے

توضیح

اس شعرمیں اجتماعی دعا کا منظرپیش کیا گیا ہے

شاعر حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی سخاوت کو مخاطب کرتے ہوئے رحمت کی درخواست کرتا ہے

دارالشّفای آتش و آب است این سرای

سوز دل مرا به نمی التیام کن

ترجمہ

یہ جگہ یعنی (حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا روضہ )آگ اور پانی دونوں کا شفا خانہ ہے،لہذا اےمیرے ممدوح ،میرے دل کی سوزش کو اپنی رحمت کی نمی سے ٹھنڈا اور سرد کر دیجئے

توضیح اس شعر میں دارالشفا سے مراد شفا دینے والا مقام ہے

شاعر کہتا ہے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام کا روضۂ اقدس پرہرظاہری و باطنی بیماری اورروحانی و قلبی امراض کا علاج ہے

دیری است زاشیانه جدا مانده‌ای «امین»

غربت بس است رو سوی آن کوی و بام کن

ترجمہ

اے امین تو ایک طویل عرصے سے اپنے اصل گھر سے دور ہے، اب اس اجنبیت کو چھوڑ اور اس روضۂ اقدس کے کوچہ و بام کی طرف لوٹ جا۔

توضیح

اس شعرمیں شاعر خود سےکلام کرتاہےاورخوداپنی ذات کو نصیحت کرتا ہے کہ دنیا کی دوری چھوڑ کر اہلِ بیت اطھار علیھم السلام کی طرف رجوع کیجئے

امین حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا تخلص ہے

دانم که مستمند و تهیدست و بی‌کسی

از بارگاه فیض رضا(ع) توشه وام کن

ترجمہ

اس شعرمیں شاعر خود اپنی حقیقت اور بے بضاعتی کا اعتراف کرتے ہویے کہتا ہے کہ جانتا ہوں کہ تو محتاج و غریب و نادار و مفلس اور بے سہارا ہے، تجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں حضرت امام علی رضا علیہ السلام کے روضۂ اقدس پر آ اور آکر اپنا حصہ لے لے یعنی سفر حیات کے لئے زادسفر حاصل کرلے

توضیح

اس شعرمیں انسان کی کمزوری اور محتاجی کا اعتراف ہے، اور امام کے روضۂ اقدس کو فیض کا خزانہ بتایا گیا ہے

و آنجا که آمد و شد خیل ملائک است

کنجی گزین و تا به قیامت مُقام کن

ترجمہ

اور وہ مقام جہاں فرشتوں کے لشکروں کاآنا جانا لگا رہتا ہے، وہاں تو بھی ایک گوشہ اختیار کر اور ہمیشہ کے لیے وہیں قیام کر

تشریح

یہ آخری شعر حضرت امام علی رضا علیہ السلام کےروضۂ اقدس کی عظمت و مکرمت کو بیان کرتا ہے کہ وہ فرشتوں کی آمد و رفت کا مقام ہے

شاعر کہتا ہے کہ یہی حقیقی سکون اور ابدی مقام کا گہوارہ ہے

تلخیص

یہ پوری غزل حضرت امام علی رضا علیہ السلام سے روحانی پناہ معنوی کمال، ہدایت، سکون اور قربت و رحمت کی دعا ہے۔

شاعر اپنی بے ضاعتی، بے بسی، عاجزی کمزوری ،ناتوانی تھکن اور روحانی پیاس کا تذکرہ کر کے حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بارگاہ فیض رساں اور روضۂ معجزنما کو فلاح و کامیابی اور نجات و رستگاری کا ذریعہ قرار دیتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha