پیر 4 مئی 2026 - 14:59
بنگلور میں نمائندۂ ولی فقیہ ہند کا دورہ؛ شیعہ-سنی اتحاد پر زور، فلسطین کی حمایت کو اسلامی فریضہ قرار

حوزہ/ ہندوستان کے شہر بنگلور میں نمائندۂ ولی فقیہ حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی نے اپنے دورے کے دوران اتحادِ امت، بیداریٔ مسلمین اور عالمی حالات کے حوالے سے اہم پیغامات دیے۔ انہوں نے کہا کہ دشمنانِ اسلام مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر امت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا شیعہ-سنی اتحاد وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، جبکہ رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کو اسلامی ذمہ داری قرار دیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی نے اپنے حالیہ دورۂ بنگلور کے دوران اتحادِ امت، بیداریٔ مسلمین اور عالمی حالات کے تناظر میں اہم پیغامات دیے۔

ریاست کرناٹک کا دارالحکومت بنگلور، جو "ملک ہندوستان کا ٹیکنالوجی مرکز" کہلاتا ہے، اپنی جدید ترقی، تعلیمی اداروں اور ثقافتی و مذہبی تنوع کے باعث ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ اس شہر میں مختلف مذاہب اور مسالک کے ماننے والے نسبتاً پرامن ماحول میں رہتے ہیں، جبکہ مسلمان—شیعہ و سنی—دینی و سماجی میدانوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔

جمعہ، یکم مئی 2026 کو ڈاکٹر عبدالمجید حکیم الہی ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ بنگلور پہنچے، جہاں علما، دینی و سماجی شخصیات اور عوام کی بڑی تعداد نے ہوائی اڈے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس دورے کا مقصد شہیدِ امت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ایؒ کے چہلم کی تقریبات میں شرکت اور رہبرِ معظم کا پیغام پہنچانا تھا۔

دورے کے دوران انہوں نے شہر کی ایک بڑی اہل سنت مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کی، جہاں سری نگر سے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی اور دیگر شیعہ سنی علمائے کرام بھی موجود تھے۔ نماز سے قبل جناب عمران مسعود نے اسلامی جمہوریہ ایران، انقلاب اسلامی اور رہبری کے کردار پر روشنی ڈالی اور اسلامی اقدار کے دفاع کی اہمیت اجاگر کی۔

نمازِ جمعہ کے بعد جامع مسجد مسلم چیریٹیبل ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حجۃ الاسلام و المسلمین حکیم الہی نے رہبرِ معظم کا خصوصی پیغام پہنچاتے ہوئے کہا کہ دشمنانِ اسلام مسلکی اختلافات کو ہوا دے کر امت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا ان کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے اتحاد و اتفاق ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنے اپنے مسالک پر قائم رہتے ہوئے باہمی احترام اور اخوت کے ساتھ زندگی گزارنی چاہئے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہندوستان کے مختلف شہروں میں رہبرِ معظم کا پیغام پہنچا رہے ہیں اور اس بات پر زور دیا کہ ہندو مسلم ہم آہنگی اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد ہی معاشرتی سکون کی بنیاد ہے۔ انہوں نے نبی کریمؐ کی سیرت کو اتحاد و اخوت کا بہترین نمونہ قرار دیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے رکنِ پارلیمان آغا سید روح اللہ مہدی نے کہا کہ مختلف مذاہب اور مسالک کے ماننے والوں کے درمیان ہم آہنگی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ بات چیت اور مفاہمت میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شیعہ سنی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسا کوئی بنیادی اختلاف موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ رہبرِ معظم نے مغربی دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کر کے امت مسلمہ کے لئے واضح پیغام دیا ہے۔

دورے کے دیگر پروگراموں میں سنی شیعہ علماء و ائمہ جماعات اور اہم شخصیات کے ساتھ خصوصی نشست شامل رہی، جس میں عالم اسلام کی موجودہ صورتحال اور علما کی ذمہ داریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مزید نمائندۂ ولی فقیہ ہند نے مؤسسہ اہل بیتؑ کا بھی دورہ کیا، جہاں نوجوانوں کی تربیت، فنی تعلیم اور سماجی خدمات کے حوالے سے جاری سرگرمیوں کا جائزہ لیا اور مفید ہدایات دیں۔

اس موقع پر موجود مولانا سيد علي باقر عابدي،مولانا سيد قائم عباس عابدي، مولانا الشيخ ڈاکٹر مقصود عمران رشادی خطیب سٹی مارکیٹ جامع مسجد بنگلور،مولانا مفتی محمد فوزان رشادی خطیب مسجد معمور، مولانا مفتی محمد خطیب مسجد قادریہ، مولانا سید منظور رضا عابدی، مولانا سید قمر حسن امام جمعہ مسجد عسکری بنگلور، مولانا مرزا عابد علی۔،مولانا محمد یوشع امام جمعہ مسجد جعفریہ، مولانا سید دلاور حسین، مولانا سید اظہر حسین، مولانا سید علی رضا، مولانا سید محمد حسین، مولانا سید محمد تصدیق، مولانا سید زاہد احمد عابدی، ایم ایل اے جناب رضوان ارشد، سابق وزیر جناب روشن بیگ، ایم ایل اے جناب پٹاسوامی گوڑا کے اسما قابل ذکر ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha