ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات کی کو کیوں نشانہ بنایا جارہا ہے؟

حوزہ/آزادی پروجیکٹ کی جڑیں متحدہ عرب امارات سے ملتی ہیں۔ گزشتہ روز، اماراتیوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر یہ ارادہ کیا تھا اور ان کا یہ خیال تھا کہ وہ بحری جہازوں کے راستے کو تبدیل کر کے، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اہمیت کو ختم کر دیں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی | آزادی پروجیکٹ کی جڑیں متحدہ عرب امارات سے ملتی ہیں۔ گزشتہ روز، اماراتیوں نے امریکہ کے ساتھ مل کر یہ ارادہ کیا تھا اور ان کا یہ خیال تھا کہ وہ بحری جہازوں کے راستے کو تبدیل کر کے، آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اہمیت کو ختم کر دیں گے۔ تاہم، اسلامی جمہوریہ نے فوری طور پر راس الخیمہ پورٹ سے دبئی کی طرف بحری جہازوں کو خالی کرنے اور پیچھے ہٹانے کا حکم جاری کر دیا۔

آج صبح سے، آبنائے ہرمز کے انتظام کا ایک نیا دائرہ کار بھی جاری کیا گیا ہے جس میں متحدہ عرب امارات کی تمام بندرگاہوں کا محاصرہ شامل ہے، جو کہ دشمن کے بحری محاصرے کے منصوبے کے جواب میں ایک متوازن ردعمل ہے۔

دشمن نے ایک اور اماراتی تیل بردار جہاز کو امریکی بحری جہاز کی پشت پناہی میں گزارنے کی بھی کوشش کی، لیکن نہ صرف وہ بحری جہاز ریڈار بند کر کے وارننگ شاٹس (انتباہی فائرنگ) کا شکار ہوا بلکہ تیل بردار جہاز پر ڈرون حملہ بھی کیا گیا۔ اس کے علاوہ چند دیگر مواقع پر بھی تجارتی جہازوں، تیل برداروں اور کچھ امریکی بحری جہازوں نے آبنائے سے گزرنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار انہیں زبانی اور عملی وارننگز کا سامنا کرنا پڑا۔

یہی وجہ ہے کہ اسوقت ہم متحدہ عرب امارات کی بندگاہوں پر ایرانی حملوں کا مشاہدہ کررہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha