حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مقاومتی بلاک کے پارلیمنٹ میں نمائندہ حسین الحاج حسن نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کے بعض سرکاری عہدیدار ایران کے کردار کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ امریکہ ہی جنگ بندی کا ضامن بنے لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے دو ہفتے پہلے ہی انہیں جنگ بندی کے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان حکام کو معلوم ہے کہ جنوبی لبنان میں کتنے افراد شہید اور زخمی ہوئے اور کتنی تباہی ہوئی، جبکہ اس دن نام نہاد جنگ بندی کی گئی تھی جسے "ٹرمپ کا تحفہ" کہا جا رہا ہے۔
حسین الحاج حسن نے کہا کہ جو لوگ آج حزب اللہ کو دو مارچ کو جنگ میں داخل ہونے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ گزشتہ 15 ماہ کے دوران یہی حکام امریکی دباؤ کے سامنے جھکتے رہے اور پانچ اور سات اگست کو ایسے فیصلے کیے جو ملکی آئین اور قومی اصولوں کے خلاف تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ آج بھی اسی غلط راستے پر چل رہے ہیں، واشنگٹن گئے، لبنان کے سفیر کی اسرائیلی سفیر سے ملاقات ہوئی، پھر ٹرمپ نے لبنانی صدر کو فون کر کے جنگ بندی کا اعلان کیا لیکن یہ جنگ بندی عملی طور پر ابھی تک نافذ نہیں ہو سکی۔
حسین الحاج حسن نے کہا کہ نتن یاہو بار بار یہ دعوی کرتا ہے کہ جنوبی لبنان میں جاری حملے اور تباہی امریکہ اور لبنان کی منظوری سے ہو رہی ہے لہذا لبنان کے بعض حکام کو واضح کرنا چاہیے کہ نتن یاہو نے یہ معاہدہ کس سے کیا ہے اور اگر یہ جھوٹ ہے تو وہ کھل کر اس کی تردید کریں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ امریکہ پر حد سے زیادہ بھروسہ اور اسے رعایتیں دینا لبنان کو حل کی طرف نہیں بلکہ مزید بحرانوں کی طرف لے جائے گا۔
حسین الحاج حسن نے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پانچ واضح شرائط بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کا مکمل اور بلا شرط خاتمہ کردے۔لبنان کی تمام سرزمین سے اسرائیل کا مکمل اور بلا شرط انخلا کیا جائے اس سلسلے میں کسی زرد لائن یا کسی اور فرضی حد بندی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ تمام بے گھر افراد کی اپنے دیہات میں واپسی کو یقینی بنایا جائے کیونکہ حزب اللہ کسی حائل علاقے یا محفوظ زون کو تسلیم نہیں کرتی۔ علاوہ ازیں قیدیوں کی واپسی ہونی چاہیے اور اسرائیلی جیلوں میں موجود لبنانی اسیر رہا کیے جائیں۔









آپ کا تبصرہ