ہفتہ 2 مئی 2026 - 14:42
امریکہ اور اتحادی کٹہرے میں، ایران کا دوٹوک اعلان: نقصان کا حساب دینا ہوگا

حوزہ/ اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے نے نہایت سخت اور غیر معمولی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ تمام ممالک جو ایران کے خلاف جارحیت میں شریک رہے یا جنہوں نے اپنے ہوائی اڈے، فضائی حدود یا دیگر سہولیات فراہم کیں، انہیں اب اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے اور ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف حالیہ جنگ اور اس کے بعد کی صورتحال نے عالمی سیاست، معیشت اور سفارت کاری میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک طرف ایران کھل کر اپنے مؤقف پر ڈٹا ہوا ہے، وہیں امریکہ اور اس کے اتحادی بڑھتے ہوئے دباؤ اور تنقید کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے نمائندے نے نہایت سخت اور غیر معمولی بیان دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ تمام ممالک جو ایران کے خلاف جارحیت میں شریک رہے یا جنہوں نے اپنے اڈے، فضائی حدود یا دیگر سہولیات فراہم کیں، انہیں اب اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے اور ایران کو پہنچنے والے نقصانات کا ازالہ کرنا ہوگا۔ یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران اب صرف دفاعی پوزیشن میں نہیں بلکہ قانونی اور سفارتی محاذ پر بھی جوابی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکی محکمہ دفاع کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے اخراجات کے حوالے سے امریکی عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس جنگ نے امریکہ پر بھاری مالی بوجھ ڈالا ہے، جس کا اثر براہ راست امریکی عوام پر پڑ رہا ہے۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب خود امریکہ کے اندر سے بھی جنگی پالیسیوں پر شدید تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔

اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے سخت مؤقف اپنایا گیا ہے، حتیٰ کہ طبی مقاصد کے لیے بھی یورینیم فراہم نہ کرنے کی بات کی گئی، جسے ماہرین غیر حقیقت پسندانہ اور سیاسی دباؤ کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ اس کے برعکس بین الاقوامی حلقوں میں یہ رائے مضبوط ہو رہی ہے کہ ایران کو اس کے قانونی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

میدانِ عمل میں بھی امریکی حکمت عملی کو چیلنجز درپیش ہیں۔ متعدد رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز پر امریکی دباؤ کے باوجود ایرانی تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت جاری ہے، جس سے یہ تاثر کمزور ہوا ہے کہ امریکہ مکمل کنٹرول حاصل کر چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی قیادت کو ایک مشکل دوراہے کا سامنا ہے: یا تو جنگ کو مزید وسعت دی جائے یا پسپائی اختیار کی جائے، اور دونوں صورتیں سیاسی طور پر نقصان دہ دکھائی دیتی ہیں۔

امریکہ کے اندرونی حالات بھی اس جنگ سے متاثر ہوئے ہیں۔ عوامی سطح پر مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے، سروے رپورٹس کے مطابق اکثریت اس جنگ کو غلطی قرار دے رہی ہے۔ سیاسی سطح پر بھی اختلافات بڑھ رہے ہیں، جہاں قانون ساز کھل کر جنگ کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے انتخابات میں حکمران جماعت کو شدید نقصان ہو سکتا ہے۔

علاقائی سطح پر اسرائیل کی کارروائیاں بھی تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔ غزہ اور لبنان میں جاری حملوں، انسانی امداد لے جانے والے جہازوں کی روک تھام اور شہریوں کے خلاف کارروائیوں نے عالمی سطح پر غم و غصہ بڑھایا ہے۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی حمایت جاری ہے، جس سے اس کی پالیسیوں پر مزید سوالات اٹھ رہے ہیں۔

مجموعی طور پر موجودہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ جنگ صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے عالمی طاقتوں کے توازن، بین الاقوامی قانون، معیشت اور عوامی رائے کو بھی متاثر کیا ہے۔ ایران جہاں ایک طرف دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم ہے، وہیں امریکہ کو بیک وقت کئی محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے، جس سے مستقبل کی سمت مزید غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha