جمعرات 12 فروری 2026 - 17:00
ایران-امریکہ مذاکرات کی دھند میں جنگ کے سائے

حوزہ/ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی حوصلہ افزا پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، لیکن یہ تعطل خود ایک بڑی کہانی سناتا ہے۔ خطے کے افق پر جنگ کے بادل بدستور منڈلا رہے ہیں، مگر دوسری طرف مذاکرات کی میز کا لگنا اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ طاقت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود واشنگٹن تہران کو جھکانے میں ناکام رہا ہے۔

تحریر: سید انجم رضا

حوزہ نیوز ایجنسی| ایران اور امریکہ کے درمیان عمان میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی حوصلہ افزا پیش رفت کے بغیر اختتام پذیر ہوئے، لیکن یہ تعطل خود ایک بڑی کہانی سناتا ہے۔ خطے کے افق پر جنگ کے بادل بدستور منڈلا رہے ہیں، مگر دوسری طرف مذاکرات کی میز کا لگنا اس حقیقت کا اعتراف بھی ہے کہ طاقت کے تمام تر دعوؤں کے باوجود واشنگٹن تہران کو جھکانے میں ناکام رہا ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے برسوں کی اقتصادی پابندیوں، دباؤ، دھمکیوں اور عسکری موجودگی کے باوجود ایران کو مذاکرات کی میز پر جھکایا نہیں جا سکا۔ اس کے برعکس امریکہ کا خود مذاکرات کی میز پر آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ دباؤ کی پالیسی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

امریکی دھمکیوں، اقتصادی پابندیوں اور عسکری دباؤ کے باوجود ایرانی قیادت کی ثابت قدمی محض سفارتی ضد نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک مزاج کی عکاسی ہے۔

ایرانی قیادت، بالخصوص ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا امریکی دھمکیوں کے باوجود ثابت قدم رہنا، تہران کا نئی جنگ کے لئے تیار ہونے کا واضح اظہار ہے۔

ایران کا یہ مؤقف کہ امریکہ اپنے معاہدوں سے انحراف کی تاریخ رکھتا ہے، ایرانی مذاکراتی رویّے کی بنیاد بنتا دکھائی دیتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس بار بھی براہِ راست مذاکرات سے گریز کیا گیا اور عمانی ثالثی کے ذریعے گفتگو ہوئی — یہ عدم اعتماد کی علامت بھی ہے اور سفارتی حکمت عملی بھی۔

امریکہ کا مذاکرات کی میز پر آنا دراصل طاقت کے توازن میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اگر دباؤ مؤثر ہوتا تو مذاکرات کی ضرورت نہ پڑتی۔

گزشتہ برس جون 2025 کی کشیدگی کے دوران اسرائیل اور امریکہ کو جس مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا، اس نے خطے میں طاقت کے یکطرفہ تصور کو ہلا دیا۔ یہ تاثر کہ اسرائیل ناقابلِ تسخیر ہے، اسرائیل کا یہ زعم ٹوٹ چکا ہے۔

جون 2025 کی جنگ میں امریکہ اور اسرائیل کو وہ اسٹریٹجک نتائج حاصل نہ ہو سکے جن کی انہیں توقع تھی۔ ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام نہ صرف جاری ہے بلکہ تہران یہ پیغام بھی دے رہا ہے کہ اس کی سائنسی اور دفاعی پیش رفت دباؤ سے نہیں رکے گی۔

واشنگٹن کے مطالبات میں ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام کو رول بیک کرنا سرِفہرست ہے، جبکہ تہران اس پر کسی سمجھوتے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔

ایران اپنے دفاعی نظریے کو روایتی فوجی توازن کے بجائے “عدم توازن کی حکمت عملی” پر استوار رکھتا ہے — یعنی ٹیکنالوجی، میزائل صلاحیت، اور غیر روایتی دفاعی ڈھانچے۔

اسی تناظر میں الیکٹرانک وارفیئر، فضائی دفاعی نیٹ ورک اور علاقائی اتحادی اس کے سکیورٹی تصور کا حصہ ہیں۔

امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہم لنکن کی خطے میں موجودگی طاقت کے مظاہرے کے طور پر دیکھی جا رہی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ حقیقی جنگی تیاری ہے یا نفسیاتی دباؤ کا حربہ؟ عسکری تاریخ بتاتی ہے کہ طاقت کا مظاہرہ اکثر مذاکراتی پوزیشن بہتر بنانے کے لیے بھی کیا جاتا ہے۔

عالمی سطح پر بھی صف بندی واضح ہو رہی ہے۔ چین کی بحری سرگرمیاں، روسی سفارتی روابط، اور بڑی طاقتوں کے درمیان ٹیلی فونک رابطے اس بحران کو محض علاقائی نہیں رہنے دیتے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر تصادم ہوا تو وہ محدود رہنے کی ضمانت نہیں دی جا سکتی — توانائی کی گزرگاہیں، عالمی معیشت اور اسٹریٹجک توازن سب اس کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔

ایران کا مؤقف یہ ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی اسے سکیورٹی چیلنج کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اصل تنازعہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اعتماد، اثرورسوخ اور علاقائی نظم کا ہے۔

امریکہ خطے میں اپنے تجارتی مقاصد کو محفوظ دیکھنا چاہتا ہے، جبکہ ایران خود کو ایک خودمختار، مزاحمتی قوت کے طور پر منوانا چاہتا ہے۔

مذاکرات کی ناکامی کا مطلب جنگ نہیں، مگر جنگ کا خطرہ مسترد بھی نہیں کیا جا سکتا۔ موجودہ مرحلہ دراصل طاقت، صبر، اور اعصاب کی جنگ ہے۔ بندوقیں خاموش ہیں مگر اعصابی دباؤ عروج پر ہے۔ سفارت کاری جاری ہے، مگر توپوں کے سائے میں۔

یہ بحران ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کرتا ہے:

کیا دنیا ایک نئے طاقت کے توازن کو قبول کرنے جا رہی ہے، یا پرانا نظام اپنی بالادستی بچانے کے لیے آخری زور آزمائی کرے گا؟

فیصلہ ابھی تاریخ نے محفوظ رکھا ہے — اور خلیج کی فضا اس فیصلے کی گواہ بننے کو بے چین ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha