حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، خطے میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں۔ ایسے وقت میں جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے جنگی ماحول کو دوبارہ گرم کرنے کے آثار سامنے آ رہے ہیں، ایران نے بیک وقت سفارتی اور عسکری سطح پر اپنی حکمت عملی کو تیز کر دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا اسلام آباد، مسقط اور ماسکو کا دورہ اسی سلسلے کی اہم کڑی سمجھا جا رہا ہے۔ اس دورے کا مقصد نہ صرف موجودہ علاقائی صورتحال پر مشاورت ہے بلکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے تازہ حالات کا جائزہ بھی شامل ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ ایران محض میدان جنگ تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنے موقف کو مضبوط بنا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے اندر خود سیاسی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ سینیٹ میں مسلسل پانچویں بار ٹرمپ کی جنگی پالیسیوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امریکی قیادت اندرونی اختلافات کا شکار ہے۔ امریکی سیاسی شخصیات اور دانشوروں کی جانب سے بھی ٹرمپ کی حکمت عملی پر سخت تنقید کی جا رہی ہے، جس سے واشنگٹن کی پوزیشن مزید کمزور دکھائی دیتی ہے۔
عالمی سطح پر بھی امریکہ کو مکمل حمایت حاصل نہیں ہو رہی۔ یورپی ممالک کی جانب سے خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کے حوالے سے پیش کی گئی تجاویز پر اختلافات سامنے آئے ہیں، جبکہ انڈونیشیا جیسے اہم ملک نے بھی اس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکہ اپنی پالیسیوں کے لیے عالمی اتحاد بنانے میں مشکلات کا شکار ہے۔
عسکری اعتبار سے بھی ایران کی پوزیشن مضبوط بتائی جا رہی ہے۔ مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی بڑی تعداد میں میزائل، بحری اور فضائی قوت اب بھی فعال ہے، جو طویل جنگ کی صورت میں اسے برتری دے سکتی ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ ایران اس طویل دباؤ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ امریکہ کے لیے یہ صورتحال زیادہ پیچیدہ بنتی جا رہی ہے۔
ادھر مذہبی و عالمی شخصیات نے بھی جنگ کی مخالفت کی ہے۔ عیسائی دنیا کے روحانی پیشوا پوپ نے ایک بار پھر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ نہ صرف معصوم انسانوں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ہے۔
برطانوی اخبار گارڈین نے بھی ایران کے اندرونی استحکام کو اجاگر کرتے ہوئے لکھا کہ اتنے شدید دباؤ اور حملوں کے باوجود ایران کا نظام نہ صرف قائم ہے بلکہ مؤثر انداز میں جواب دے رہا ہے، جو اپنی نوعیت کی ایک منفرد مثال ہے۔
مجموعی طور پر موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جہاں ایک طرف امریکہ اور اس کے اتحادی دباؤ بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہیں ایران سفارتکاری، عوامی اتحاد اور عسکری تیاری کے ذریعے نہ صرف اس دباؤ کا مقابلہ کر رہا ہے بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کو بھی اپنے حق میں موڑنے کی کوشش میں مصروف ہے۔









آپ کا تبصرہ