منگل 24 فروری 2026 - 02:05
خطے کی سیاست کا نیا باب: ایران کی استقامت اور امریکہ کی تنہائی

حوزہ/ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات محض معاہدے تک محدود نہیں، بلکہ خطے کی طاقت کے توازن، عالمی سفارتکاری اور حقیقت پسندی کی آزمائش بھی ہیں۔ امریکہ عسکری طاقت کے مظاہروں کے ذریعے ایران پر دباؤ ڈال رہا ہے، جبکہ ایران صبر، حکمت اور دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ مذاکرات میں مضبوطی سے کھڑا ہے، جس سے خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے ساتھ عالمی طاقتوں کے درمیان امریکہ و اسرائیل کی تنہائی واضح ہو گئی ہے۔ یہ مذاکرات ایران کی استقامت، حکمت اور حقیقت پسندی کی علامت بن چکے ہیں۔

تحریر: سید شجاعت علی

حوزہ نیوز ایجنسی | ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات صرف کاغذ پر دستخط کا معاملہ نہیں بلکہ خطے کی طاقت کے توازن، عالمی سفارتکاری اور حقیقت پسندی کے امتحان کی منظر کشی ہیں۔ جہاں امریکہ اپنی عسکری طاقت اور دباؤ کے مظاہروں سے ایران کو جھکانے کی کوشش کر رہا ہے، وہیں ایران نے صبر، حکمت، اور دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ خود کو مضبوط کھڑا کر کے نہ صرف خطے میں اپنی پوزیشن مستحکم کی ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان امریکہ و اسرائیل کی تنہائی کو واضح کر دیا ہے۔ یہ مذاکرات کسی بھی نتیجے سے زیادہ، ایران کی استقامت اور حقیقت پسندی کی فتح کا منظر ہیں۔

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جوہری مذاکرات اس وقت ایک نازک مگر فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ برسوں سے جاری یہ کشمکش محض ایٹمی پروگرام تک محدود نہیں رہی بلکہ اب خطے کی مجموعی طاقت، سفارتی توازن اور عالمی سیاست کے مستقبل سے جڑ گئی ہے۔ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال، خاص طور پر مغربی ایشیا میں نئی اتحادی صف بندی، چین اور روس کا بڑھتا ہوا اثر، اور امریکہ و اسرائیل کی محدود ہوتی حمایت، اس بات کا اشارہ دے رہی ہے کہ اب طاقت کے پرانے پیمانے بدل رہے ہیں۔

ان مذاکرات میں امریکہ کی حکمتِ عملی واضح ہے: وہ اصل معاہدے سے زیادہ ایران پر دباؤ بڑھانا چاہتا ہے تاکہ اسے تسلیم کی راہ پر لایا جا سکے۔ موجودہ امریکی انتظامیہ، جو ٹرمپ کی قیادت میں ہے، اسی رویے کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور آج بھی اسی انداز میں اسے عملی جامہ پہنایا جا رہا ہے۔ امریکہ اب بھی طاقت کے مظاہرے کے ذریعے سیاسی برتری حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اسی مقصد کے لیے وہ سمندروں میں جنگی بحری بیڑے دوڑا رہا ہے، فضاؤں میں جیٹ طیارے گشت کر رہے ہیں، اور خطے میں بری افواج کے اڈوں کو متحرک رکھا جا رہا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہی عسکری سرگرمیاں اب اُس کی سب سے بڑی کمزوری بن چکی ہیں۔

یہ تمام اقدامات دنیا پر دھونس جمانے کی کوشش ہیں، مگر اب عالمی ماحول بدل چکا ہے۔ ٹرمپ کی عیاری اور دھوکہ دہی اس پالیسی کی بنیاد میں شامل ہے۔ وہ بظاہر مذاکرات کا حامی بن کر میدان میں آتا ہے مگر پسِ پردہ اس کا مقصد کسی معاہدے تک پہنچنا نہیں، بلکہ وقت حاصل کرنا، ایران کو تھکانا اور دباؤ کے ذریعے اپنے مفادات کو آگے بڑھانا ہے۔ تاہم، ایران کی قیادت نے سیاسی بصیرت، حکمت اور صبر کے ساتھ اس مکارانہ رویے کا جواب دیا ہے۔

ایران نے نہ صرف سفارتی سطح پر خود کو ثابت کیا بلکہ عالمی طاقتوں کے بدلتے توازن میں اپنی حیثیت کو بھی مضبوط کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج امریکہ اور اسرائیل خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔ ان کے اتحادی یا تو خاموش ہیں یا محتاط، کیونکہ وہ جان چکے ہیں کہ کھلی محاذ آرائی سے انہیں فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہوگا۔

امریکہ کی اصل کمزوری یہی ہے کہ وہ اپنی طاقت کے شور سے اپنی تنہائی چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے بحری بیڑے، فضائی قوت اور زمینی اڈے اب خوف کی علامت نہیں بلکہ بے یقینی کی نشانی بن چکے ہیں۔ وہ جتنا دباؤ بڑھاتا ہے، اتنا ہی خود سفارتی جال میں الجھتا جا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ مذاکرات میں امریکہ کسی واضح راستے پر نہیں۔ وہ نہ جنگ چھیڑنے کی پوزیشن میں ہے، نہ معاہدہ کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔ دوسری طرف ایران پُر اعتماد، پُرعزم اور حقیقت پسندی کے ساتھ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے۔

لہذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ دنیا ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہو چکی ہے۔ وہ دور جب طاقت کی بنیاد صرف ہتھیاروں اور دفاعی صلاحیتوں کے وجود پر نہیں بلکہ صبر، عقل اور خودمختاری کے ساتھ انہیں مؤثر طور پر استعمال کرنے پر ہوگی۔ ہتھیار اور دفاعی صلاحیتیں اپنی جگہ ضروری ہیں، لیکن اصل کامیابی انہی قوموں کی ہوگی جو حوصلہ، حکمت اور حقیقت پسندی کے ساتھ اپنے فیصلوں کو آگے بڑھاتی ہیں۔ امریکہ جتنا بھی مکاری سے کام لے، اب حالات اس کے قابو میں نہیں رہے۔ مستقبل ان قوتوں کا ہے جو ہتھیاروں اور دفاعی صلاحیتوں کے ساتھ صبر، عقل اور خود مختاری کے ساتھ کھڑی ہیں اور آج ایران اسی استقامت اور حکمت کی علامت بن چکا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha