حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں دو ہفتوں کی جنگ بندی کے اختتام پر امریکہ کی جانب سے یکطرفہ توسیع نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے جنگ بندی کو غیر معینہ مدت تک بڑھانے کا اعلان کیا، تاہم اس کے ساتھ ہی خلیج فارس میں فوجی محاصرہ برقرار رکھنے کا حکم دیا، جو بظاہر سفارتی پیشکش سے زیادہ ایک دباؤ کی حکمت عملی محسوس ہوتی ہے۔
ایران نے اس اعلان پر فوری ردعمل دینے سے گریز کیا، لیکن اس کا مؤقف پہلے ہی واضح کیا جا چکا ہے کہ جب تک خلیج فارس کا محاصرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا، مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع نہیں ہوگا۔ تہران اس محاصرے کو جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتماد سازی کے بغیر کسی بھی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔
ایرانی پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے اس صورتحال کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ دباؤ کے ذریعے مذاکرات کو "تسلیم" میں بدلنا چاہتا ہے۔ ان کے بیان سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ایران نہ صرف سفارتی سطح پر محتاط ہے بلکہ میدان میں بھی نئی حکمت عملی کے ساتھ تیار ہے۔
ایران کی عسکری قیادت نے بھی سخت لہجہ اختیار کر لیا ہے۔ سپاہ پاسداران کے کمانڈر سردار موسوی نے خبردار کیا کہ اگر کسی پڑوسی ملک کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال ہوئی تو اسے بھاری قیمت چکانا پڑے گی، حتیٰ کہ تیل کی پیداوار متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ بیان دراصل خلیجی ممالک کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ اس تنازع میں غیر جانبدار رہیں۔
اسی طرح مرکزی فوجی کمان کے ترجمان نے اعلان کیا کہ ایرانی افواج مکمل تیاری کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود میدانِ جنگ کی حرکیات بدستور فعال ہیں۔
عراق کی مزاحمتی تنظیم "سرایا اولیاء الدم" کی جانب سے بھی سخت وارننگ سامنے آئی ہے کہ ایران پر کسی بھی نئے حملے کی صورت میں ردعمل پہلے سے زیادہ شدید ہوگا۔ یہ بیان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ یہ تنازع صرف دو ممالک تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔
امریکہ کی جانب سے تجارتی جہازوں کو روکنے اور بندرگاہوں کے محاصرے نے تنازع کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسے "اقدامِ جنگ" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے بلکہ عالمی تجارت کے اصولوں کی بھی نفی ہے۔
چین کا سخت ردعمل اس معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھاتا ہے، جہاں اس نے اپنے تجارتی مفادات پر حملہ تصور کرتے ہوئے واضح کیا کہ ایسے اقدامات کے نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔ اس طرح یہ بحران اب عالمی طاقتوں کے درمیان کشمکش کی شکل بھی اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔
ٹرمپ کی جانب سے ایران میں آٹھ خواتین کی مبینہ سزائے موت کے حوالے سے متضاد بیانات نے اس بحران میں "اطلاعاتی جنگ" کے پہلو کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔ ایک طرف یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران انہیں سزا دینے والا ہے، جبکہ بعد میں یہ کہا گیا کہ انہی کی مداخلت سے سزائیں روک دی گئیں۔ ایران کی عدلیہ نے ان دعوؤں کو مسترد کر دیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی کشیدگی کے دوران امریکہ نے ایران اور روس پر تیل پابندیوں میں 30 دن کی توسیع کر دی ہے۔ یہ فیصلہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن ایک طرف دباؤ بڑھا رہا ہے، تو دوسری طرف عالمی منڈی میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش بھی کر رہا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی صورتحال کے پیش نظر۔
امریکی میڈیا شخصیت ٹکر کارلسن کی جانب سے ٹرمپ کی حمایت پر ندامت کا اظہار اس بات کا اشارہ ہے کہ اس پالیسی پر خود امریکہ کے اندر بھی اختلافات موجود ہیں۔ ان کا بیان ظاہر کرتا ہے کہ داخلی سطح پر بھی اس حکمت عملی کو تنقید کا سامنا ہے۔
موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ جنگ بندی بظاہر برقرار ہونے کے باوجود عملی طور پر کشیدگی میں کمی نہیں آئی بلکہ اس نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے۔ امریکہ کی یکطرفہ پالیسی، ایران کا سخت مؤقف، علاقائی مزاحمت کی دھمکیاں، اور عالمی طاقتوں کی شمولیت—یہ سب عناصر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر جلد کوئی واضح اور متفقہ سفارتی راستہ نہ نکالا گیا تو خطہ ایک بڑے تصادم کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
یہ بحران اب صرف عسکری نہیں بلکہ سفارتی، معاشی اور اطلاعاتی جنگ کا مجموعہ بن چکا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ