حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنگ بندی کے بعد بھی خطے اور دنیا کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے، جہاں ایک طرف ایران نے اندرونی اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے تو دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو سیاسی، معاشی اور عسکری چیلنجز کا سامنا ہے۔
ایران کی اعلیٰ قیادت، جن میں صدر مسعود پزشکیان، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژہای شامل ہیں، نے مشترکہ بیان میں واضح کیا کہ ملک کے اندر کسی قسم کی تقسیم نہیں بلکہ مکمل اتحاد موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم ایک قیادت اور ایک مقصد کے تحت آگے بڑھ رہی ہے۔
دوسری جانب امریکہ کے اندرونی حالات کے بارے میں رپورٹس میں شدید سیاسی دباؤ اور بے چینی کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت میں نمایاں کمی آئی ہے، جبکہ حکومتی اور عسکری سطح پر استعفوں اور اختلافات میں اضافہ ہوا ہے، جو پالیسیوں پر عدم اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔
معاشی محاذ پر بھی اثرات واضح ہونے لگے ہیں۔ یورپی مرکزی بینک کی سربراہ کرسٹین لاگارڈ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث یورپ کو خوراک کی قلت جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جو عالمی سطح پر بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔
اسی دوران امریکی بحری محاصرے کی ناکامی بھی سامنے آ رہی ہے۔ فنانشل ٹائمز، سی این این اور ایسوسی ایٹڈ پریس سمیت متعدد عالمی اداروں کے مطابق کئی ایرانی تیل بردار جہاز اس محاصرے کو عبور کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور تیل کی ترسیل جاری ہے، جس سے امریکی دعوؤں پر سوال اٹھ رہے ہیں۔
علاقائی سطح پر کشیدگی بھی برقرار ہے۔ سومالیہ نے اسرائیلی جہازوں کے لیے باب المندب کی گزرگاہ بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں، جن میں جنگ بندی کی بارہا خلاف ورزی کی اطلاعات ہیں۔
ادھر ایران نے بین الاقوامی سطح پر بھی قدم اٹھاتے ہوئے اقوام متحدہ میں ان عرب ممالک کے خلاف شکایت درج کرائی ہے جنہوں نے اپنے علاقے امریکہ کو استعمال کرنے کی اجازت دی تھی۔
مجموعی طور پر یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگرچہ بظاہر جنگ بندی موجود ہے، لیکن حقیقت میں عالمی اور علاقائی کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔ ایران کا اندرونی اتحاد، امریکہ کے اندرونی مسائل، اور عالمی معیشت پر پڑنے والے اثرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تنازع ایک بڑے عالمی رخ اختیار کر سکتا ہے۔









آپ کا تبصرہ